پاکستان کی خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری کا مڈبنگلو اور مڈمنگلی کے مقام پر ایس ایم بند کے مختلف مقامات کا دورہ

10

نواب شاہ، 04 ستمبر (اے پی پی ): اسلامی جمہوریہ پاکستان کی خاتون اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے مڈبنگلو اور مڈمنگلی کے مقام پر ایس ایم بند کے مختلف مقامات کا دورہ کیا اور  ایس ایم بند کے مختلف مقامات پر امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے محراب پور میں بھی سیلاب سے متاثرہ افراد کے لئے پیشگی اقدامات کے طور پر امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔اس موقع پر بی بی آصفہ بھٹو زرداری کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ دریائے سندھ سے منسلک ایس ایم بند پر مڈ منگلی وہ مقام ہے کہ جہاں ممکنہ سیلاب سے نقصانات کا خدشہ ہے،

 محکمہ آبپاشی نے مڈ منگلی کے مقام پر دریا کے بہاؤ کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ٹی اسپر، جے اسپر اور ڈھلوانی اسٹڈ کے مختلف ڈھانچے تعمیر کئے ہیں، ایس ایم بند پر مڈمنگلی کے پاس بھاری مشینری کے ساتھ ساتھ پتھروں کا وافر ذخیرہ بھی موجود ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ شگاف کو فوراً پر کیا جا سکے،محکمہ آبپاشی کے اہلکار 24 گھنٹے ایس ایم بند پر گشت کرتے ہیں تاکہ بند کی حالت اور سیلابی صورت حال کی مسلسل نگرانی کی جا سکے،بریفنگ میں بتایا گیا کہ ریسکیو 1122 کے کیمپ کے عملے کے پاس بوٹ، لائف جیکٹ، اسکوبا سیٹ اور رسیوں تک ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کا تمام سامان موجود ہے،  مڈ بنگلو کے مقام پر میڈیکل کیمپ پر یومیہ 80 مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے،گڈو اور سکھر بیراج پر دولاکھ کیوسک تک نارمل، پانچ لاکھ کیوسک تک درمیانہ سیلاب جبکہ سپرفلڈ نو لاکھ کیوسک تک قرار پاتا ہے،کوٹری بیراج پر دولاکھ کیوسک تک نارمل، ساڑھے چارلاکھ کیوسک تک درمیانہ سیلاب جبکہ سپر فلڈ آٹھ لاکھ کیوسک سے زیادہ قرار پاتا ہے، 2010 کے سپرفلڈ کے بعد ایس ایم بند کو مختلف مقامات پر مضبوط کیا گیا ہے، اس موقع پر بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ  بپھرتے پانی سے انسانی زندگیوں، املاک، کھیت کھلیان اور جانوروں کو بچانا ایک بڑا چیلنج ہوگا،  ممکنہ سیلاب کا مقابلہ کرنے کے لئے مانیٹرنگ سے لے کر ہنگامی حالات کی درجہ بندی تک مؤثر منصوبہ بندی ناگزیر ہے،  ممکنہ سیلاب کا مقابلہ کرنے کیلئے مختلف محکموں کے درمیان مزید بہتر کوآرڈینیشن ضروری ہے، مجھے خوشی ہے کہ انتظامیہ اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ممکنہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے حوالے سے غیرمعمولی اقدامات کررہی ہے، ممکنہ سیلاب کی صورت میں کسی بھی قسم کی بداحتیاطی ہنگامی صورت حال سے دوچار کرسکتی ہے، قدرتی آفت کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ شہری بھی احتیاطی تدابیر کو اختیار کرکے انتظامی قواعد و ضوابط کا خیال کریں،۔ اگر انتظامیہ انخلاء کی درخواست کرے تو شہری اس اپیل پر سنجیدگی سے عمل کریں کیونکہ آپ کی زندگی قیمتی ہے۔