اسلام آباد، 10 ستمبر(اے پی پی): ڈی 8 ممالک پر مشتمل چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کے فروغ کے لیے پہلا ورچوئل اور آٹھواں باضابطہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں بنگلادیش، پاکستان، آذربائیجان، مصر، انڈونیشیا، ایران، ملیشیا اور نائیجیریا کے نمائندوں نے شرکت کی۔ پاکستان کی جانب سے وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان،سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم اور سی ای او سمیڈا سوکرات امان شریک ہوئے۔
ہارون اختر خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اجتماعی تعاون کے ذریعے معاشی ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایز علاقائی معاشی انضمام کا بنیادی ذریعہ ہیں جو نہ صرف روزگار پیدا کرتے ہیں بلکہ معیشت میں جدت بھی لاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی ایس ایم ایز میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں، خصوصاً ٹیکسٹائل، سرجیکل، آئی ٹی اور اسپورٹس سیکٹر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ محدود مالی وسائل اور مارکیٹ تک رسائی ایس ایم ایز کی بڑی رکاوٹیں ہیں، تاہم اجتماعی کاوشوں سے ان چیلنجز کو مواقع میں بدلا جا سکتا ہے۔ ہارون اختر خان نے کہا کہ پاکستان خطے میں معاشی سفارت کاری کو فروغ دے گا اور ایس ایم ایز کو ترقی کے انجن میں بدلنے کے لیے پرعزم ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم نے کہا کہ ڈی 8 ممالک کے درمیان معاہدہ عالمی ویلیو چین میں شمولیت کی بنیاد فراہم کرے گا اور یہ شراکت داری علاقائی تعاون کو نئی جہت دے گی۔
اجلاس میں شریک رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ڈی 8 ممالک قدرتی وسائل، انسانی صلاحیت اور کاروباری ٹیلنٹ سے مالا مال ہیں، جنہیں بروئے کار لا کر پائیدار ترقی اور علاقائی خوشحالی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔











