جلالپور پیر والہ: سیلاب متاثرین کی منتقلی کا عمل آخری مراحل میں داخل، دریائے چناب میں پانی کی سطح میں کمی

10

 

جلالپور پیر والہ ،14 ستمبر(اے پی پی ):جلالپور پیر والہ اور گردونواح میں حالیہ سیلابی صورتحال کے باعث ضلعی انتظامیہ کا سیلاب متاثرہ علاقوں سے شہریوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا آپریشن اپنے آخری مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ڈپٹی کمشنر ملتان، وسیم حامد سندھو نے سکھر موٹر وے انٹرچینج کا ہنگامی دورہ کیا جہاں انہوں نے موٹر وے حکام اور ضلعی انتظامیہ سے سیلابی صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ لی۔سیلابی ریلے کے باعث بستی عنایت پور اور گیانی روڈ کے مقامات پر شگاف پڑنے سے پانی کا دباؤ سکھر موٹر وے تک پہنچ چکا ہے، جس پر ضلعی انتظامیہ مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق، دریائے چناب میں پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ دریائے چناب میں پانی کی کمی کے باعث دریائے ستلج کے سیلابی ریلے کا اخراج بھی تیز ہو گیا ہے۔ تاہم، دونوں دریاؤں کے ریلے آپس میں ملنے سے جلالپور پیر والہ کی متعدد آبادیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے امید ظاہر کی کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں پانی کی سطح میں مزید دو فٹ کمی واقع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ شجاع آباد کی بستی دھوندوں میں پڑنے والے شگاف سے شہر کو فی الحال کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔وسیم حامد سندھو نے مزید بتایا کہ متاثرہ آبادیوں کے لیے فلڈ ریلیف کیمپس کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ضلعی انتظامیہ کے مطابق، سیلابی صورتحال پر مکمل کنٹرول کے لیے ریسکیو ٹیمیں، مقامی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مسلسل الرٹ ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹا جا سکے۔