اسلام آباد، 18 ستمبر)اے پی پی): وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور و اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، احد چیمہ کی زیر صدارت سرمایہ کاری بورڈ کے اسٹریٹجک روڈ میپ سے متعلق ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، سیکرٹری سرمایہ کاری بورڈ اور دیگر سینئر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کا بنیادی مقصد معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرنا، پاکستان کے سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانا اور غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں اضافہ کے لیے حکمت عملی پر غور و خوض کرنا تھا۔
وفاقی وزیر احد چیمہ نے سرمایہ کاری بورڈ کی جانب سے ریگولیٹری اصلاحاتی پیکیج کے حوالے سے جاری پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان جلد ایک جامع ریگولیٹری اصلاحاتی پیکج تیار کرے گا جو کہ سرمایہ کاری کے لئے ایک گیم چینجر ثابت ہوگا۔
خصوصی اقتصادی زونز (ایس ای زیز) کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اھد چیمہ نے اس بات پر زور دیا کہ ان کو منظم اور مؤثر انداز میں جلد از جلد عملی جامہ پہنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایس ای زیز پاکستان کی معاشی حکمت عملی کا ایک اہم جزو ہیں جو صنعتی توسیع، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور تکنیکی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے مابین مضبوط تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ یہ زونز عالمی معیار کے مطابق ہوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی جانب متوجہ کریں۔
وفاقی وزیر کو اصلاحات کی صورتحال اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان تعاون کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے صوبائی حکام کی اصلاحاتی ایجنڈے کے ساتھ پیشگی ہم آہنگی کو سراہا اور اسے ایک مربوط قومی سرمایہ کاری فریم ورک کے قیام کے لیے سنگ بنیاد قرار دیا۔
وفاقی وزیر نے وزیر اعظم شہباز شریف کے ویژن کے مطابق پاکستان کی “بزنس ریڈی” درجہ بندی کو بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ مقصد براہِ راست ایز آف ڈوئنگ بزنس کے نظام کو مضبوط بنانے سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شفاف اور مضبوط کاروباری ماحول پاکستان کی عالمی مسابقت کو بڑھانے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
اجلاس کے اختتام پر وزیر احد چیمہ نے جاری اصلاحاتی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور وفاقی و صوبائی اداروں کے درمیان قریبی تعاون کو سراہا۔ انہوں نے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کو ایک کاروبار دوست ماحول فراہم کیا جائے گا تاکہ یہ خطے اور عالمی سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم مرکز بن سکے۔











