لاہور، 25 ستمبر (اے پی پی): صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات سے یونیسف کی پاکستان میں نئی نمائندہ پیرنیلا آئرن سائیڈ نے ملاقات کی، جس میں تعلیم کے مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور دو طرفہ تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات میں وزیر تعلیم نے سیلاب سے متاثرہ تعلیمی اداروں کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ حالیہ تباہ کن سیلاب نے دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق سیلاب سے 3000 سے زائد اسکولوں کو نقصان پہنچا جبکہ کئی تعلیمی ادارے اب بھی زیر آب ہیں۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ سہولیات کی کمی اور تباہ شدہ اسکولوں کی بحالی ایک بڑا چیلنج ہے۔ لاکھوں طلباء متاثر ہوئے ہیں، جن کا تعلیمی سلسلہ بحال رکھنے کے لیے اسکولوں میں تین شفٹوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ اسی مقصد کے تحت ریلیف کیمپوں اور کرایہ کی عمارات میں متبادل کلاسز کا اہتمام کیا جا رہا ہے جبکہ ٹینٹ اسکول بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسکولوں کی مکمل بحالی کے لیے کم از کم تین ماہ درکار ہوں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے سیلاب زدہ علاقوں کے طلباء کی سمسٹر فیس معافی کی منظوری دے دی ہے تاکہ ہر طالب علم فیس میں رعایت سے فائدہ اٹھا سکے۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ طلباء کی سہولت کے لیے “ہونہار اسکالرشپ پروگرام” میں اپلائی کرنے کی تاریخ بھی ایک ماہ بڑھا دی گئی ہے۔ یونیسف اور محکمہ تعلیم نے تعلیم کے میدان میں جاری شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا تاکہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں بچوں کی تعلیم کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے۔











