اسلام آباد،9 اکتوبر (اے پی پی): اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی کے عمومی مباحثے میں اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی انسانی حقوق کی بگڑتی ہوئی صورتحال، حقِ خود ارادیت سے محرومی، اسلاموفوبیا میں اضافے اور بدنیتی پر مبنی غلط معلومات کے پھیلاؤ پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسانی حقوق کے وہ وعدے جو اقوامِ متحدہ کے منشور، انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے اور بین الاقوامی معاہدات میں درج ہیں، آج شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں لاکھوں افراد اب بھی تشدد، قبضے، امتیازی سلوک اور ناانصافیوں کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ عدم مساوات اور محرومی نے عالمی عدم استحکام میں اضافہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی ڈھانچے کی بنیاد اقوام کے حقِ خود ارادیت پر ہے، لیکن فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام آج بھی اس حق سے محروم ہیں۔ سفیر نے کہا کہ غزہ میں جاری انسانی المیہ اس حق سے انکار کی بھیانک قیمت ہے، اور عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ فلسطینی عوام کے تحفظ اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام سات دہائیوں سے بھارتی جبر، جبری گمشدگیوں، آبادیاتی تبدیلیوں اور خواتین کے خلاف ظلم کا سامنا کر رہے ہیں۔ بھارت کے 2019 کے غیر قانونی اقدامات نے اس جبر کو مزید شدید کر دیا ہے۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت سے متعلق اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔











