نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن کے زیرِ اہتمام ” پاکستان میں قومی یکجہتی اور ثقافتی ہم آہنگی کے امکانات و چیلنجز “ کے موضوع پر پالیسی ڈائیلاگ

16

اسلام آباد، 20 اکتوبر (اے پی پی):نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن کے زیرِ اہتمام ”    پاکستان میں قومی یکجہتی اور ثقافتی ہم آہنگی کے امکانات و چیلنجز “  کے موضوع پر پالیسی ڈائیلاگ منعقد ہوا۔

تقریب سے وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا ثقافتی تنوع اس کی سب سے بڑی طاقت ہے جو قومی یکجہتی، امن اور ترقی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

وزیر نے کہا کہ حکومت کا وژن معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، برداشت اور شمولیت کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اعلان کردہ”  سینٹر فار نیشنل کوہیشن اینڈ آؤٹ ریچ“   ایک فعال تحقیقی اور عملی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا، جو پاکستان کے ثقافتی تنوع کو دستاویزی شکل دینے، نوجوانوں کو فن، میڈیا اور تعلیم کے ذریعے متحرک کرنے اور سماجی ہم آہنگی کے لیے پالیسی سفارشات فراہم کرنے کا کام کرے گا۔

اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ ثقافت کو معاشرتی مزاحمت اور ہم آہنگی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ تقسیم اور عدم برداشت کا رویہ معاشروں کے تانے بانے کو کمزور کرتا ہے،جب ہم ایک دوسرے کو سننا چھوڑ دیتے ہیں اور تنوع کو منانے سے گریز کرتے ہیں تو ہم اپنی قومی شناخت کی بنیادوں کو متزلزل کر دیتے ہیں ۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت لوک ورثہ جیسے اداروں اور نئے منصوبوں کے ذریعے ان روابط کو ازسرِنو استوار کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ وزیر نے مزید کہا کہ وزارت یونیورسٹیوں، تھنک ٹینکس اور بین الاقوامی اداروں جیسے یونیسکو اور یو این او ڈی سی کے ساتھ تعاون کرے گی تاکہ امن، رواداری اور شہری اقدار کو فروغ دینے والے پروگرامز تشکیل دیے جا سکیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی یکجہتی کسی قانون سے قائم نہیں کی جا سکتی، یہ تب پروان چڑھتی ہے جب ہم مکالمے میں سرمایہ کاری کریں، تقسیم کے بجائے اتحاد کو فروغ دیں اور ہر پاکستانی کو یہ احساس ہو کہ اس کی شناخت اور آواز قابل احترام ہے۔

اس موقع پر سیکرٹری نیشنل ہیریٹیج اینڈ کلچر ڈویژن اسد رحمان گیلانی نے سینٹر فار نیشنل کوہیشن اینڈ آؤٹ ریچ کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ مرکز پاکستان کے مشترکہ ثقافتی ورثے، کہانیوں، نغموں اور اقدار ،کو استعمال کرتے ہوئے عوام کو جوڑنے اور فاصلے مٹانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

تقریب کے آغاز میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر لوک ورثہ ڈاکٹر وقاص سلیم نے فورم کے مقاصد بیان کرتے ہوئے اسے بین الثقافتی سمجھ بوجھ اور علاقائی ورثے کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم قرار دیا۔