سلامتی کونسل میں پاکستان کا کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت پر زور

9

‎اقوامِ متحدہ ، 25 اکتوبر ( اے پی پی): اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں “اقوامِ متحدہ کی تنظیم: مستقبل کی جانب نظر” کے عنوان سے ہونے والی کھلی بحث کے دوران پاکستان مشن کے اور پولیٹیکل کوآرڈینیٹر گل قیصر سروانی نے بھارتی مندوب کے الزامات کا بھرپور جواب دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام آج بھی اپنی جدوجہد پر ثابت قدم ہیں، اور کسی صورت ہار ماننے والے نہیں۔ ان کی جدوجہد برحق ہے، ان کا مقصد جائز ہے، اور ان کا حق ناقابلِ انکار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے بے بنیاد اور گمراہ کن بیانات کا مقصد حقائق سے توجہ ہٹانا ہے۔
‎پاکستانی نمائندے نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے مظالم کی فہرست طویل اور خوفناک ہے ، اجتماعی قبریں، جبری گمشدگیاں، حراست میں قتل، جنسی تشدد، آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوششیں اور میڈیا پر مکمل پابندیاں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جمہوری روایت کا دعویٰ اس وقت جھوٹا ثابت ہوتا ہے جب وہ اپنی ہی عوام پر ظلم ڈھاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کو منظم طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ گجرات، دہلی اور منی پور کے قتل عام ہندوتوا کے فسطائی چہرے کو بے نقاب کرتے ہیں۔
‎گل قیصر سروانی نے زور دے کر کہا کہ کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں تھا، نہ ہے، اور نہ کبھی ہوگا، کیونکہ یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے اور تمام متعلقہ قراردادیں اسے متنازعہ تسلیم کرتی ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ بھارت کو بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے پر مجبور کیا جائے۔
‎انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر پاکستان کے جمہوری عزم اور بنیادی آزادیوں کے احترام کی واضح مثال ہے، جہاں عوام اپنے نمائندے خود منتخب کرتے ہیں اور باعزت زندگی گزارتے ہیں ، ایسی آزادی جس کا تصور بھی بھارت کے زیر قبضہ کشمیر میں ممکن نہیں۔اقوامِ متحدہ کے قیام کے 80 ویں یوم کے موقع پر پاکستانی نمائندے نے بھارت پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل کرے اور کشمیری عوام کو ان کا ناقابلِ انکار حقِ خود ارادیت فراہم کرے۔