اسلام آباد، 07نومبر (اے پی پی): وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد کشمیری بہن بھائیوں کا گھر ہے، یہ تاثر درست نہیں کہ اسلام آباد میں چیکنگ کے نام پر کشمیریوں کو تنگ کیا جاتا ہے، تمام پاکستانیوں کے دلوں میں کشمیر کے لیے جو محبت ہے اسے کوئی بھی ختم نہیں کر سکتا ، معرکہ حق میں ہونے والی شکست کے بعد ہمارا دشمن ایسی جھوٹی ویڈیوز کے ذریعے پاکستان اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلا رہا ہے ، بغیر تصدیق ایسی ویڈیوز کو شیئر کرنا غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے، ایسی ویڈیوز بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر کچھ ایسی ویڈیوز اور پوسٹس دیکھنے میں آ رہی ہیں جن سے جھوٹا پروپیگنڈا دیکھنے میں آ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری بہن بھائیوں کے لیے ہماری لیڈرشپ اور ہمارے دلوں میں جو محبت ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، اس پروپیگنڈا کا مقصد پاکستان اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانا ہے، یہ ہمارے دشمن کا ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں پاکستان کو دشمن پر جو برتری حاصل ہوئی اور دشمن بدترین شکست سے دوچار ہوا، اس کے بعد اب وہ سوشل میڈیا کے ذریعے جھوٹے پروپیگنڈے پھیلانے میں مصروف ہے، ایسے عناصر کو بے نقاب کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل ایسی ویڈیوز کو بغیر تصدیق آگے شیئر نہ کرے اور ایسی ویڈیوز پر یقین نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ میں ایک خاص واقعے کا ذکر کروں گا، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جوائنٹ ایکشن کمیٹی اپنا لانگ مارچ جاری رکھے ہوئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ دھیر کوٹ میں ان کا پولیس کے ساتھ تصادم ہوا اور دھیرکوٹ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون اس وقت موقع پر پہنچی، انہوں نے زخمی پولیس والوں کو اپنی گاڑی میں ڈالا اور باغ ہسپتال میں لے گئی۔ انہوں نے کہا کہ باغ ہسپتال میں جب لوگوں نے دیکھا کہ وہ خاتون اسلام آباد پولیس والوں کو لے کے آئی ہے تو انہوں نے اس گاڑی پر حملہ کیا، اس واقعے کو اب ایسا کر کے دکھایا جا رہا ہے کہ یہ واقعہ اسلام آباد میں پیش آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اس کا فوری نوٹس لیا اور وفاقی وزراء سمیت راجہ پرویز اشرف اور قمر زمان کائرہ پر مشتمل ایک کمیٹی قائم کی گئی، کمیٹی کے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات کے تین راؤنڈ ہوئے اور اس معاملے کو سلجھایا گیا، یہ ہماری آزاد کشمیر کے بہن بھائیوں اور شہریوں کے ساتھ بے مثال محبت ہے، وزیراعظم نے 30 ارب کی گرانٹ دینے پر آمادگی ظاہر کی اور انہوں نے ہر صورت یہ مسئلہ حل کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کے دلوں میں کشمیر کے لیے جو محبت ہے اسے کوئی بھی اس طرح کا پروپیگنڈا ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل تک ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کے بعد مسئلہ کشمیر مزید اجاگر ہوا ہے، کشمیریوں کی پاکستان کے لیے محبت بھی بے مثال ہے ، کشمیریوں نے پاک فوج کے جوانوں کے شانہ بشانہ ہو کر پاکستان سے اپنی محبت کا ثبوت دیا اور یہ رشتہ کبھی کمزور نہیں ہو سکتا ، ہمارا یہ رشتہ وقت کے ساتھ ساتھ اور مضبوط ہوگا ۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ ایسی ویڈیوز کے ذریعے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اسلام آباد میں کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ ناروا سلوک ہو رہا ہے ، جو کہ سراسر من گھڑت اور حقائق کے منافی ہے، اسلام آباد پولیس ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کر رہی ہے ، اسلام آباد پولیس امن و امان کے ساتھ ساتھ غیر ملکی مہمانوں کا بھی تحفظ کرتی ہے، اس میں کسی بھی قسم کی کمی یا کوتاہی وزارت داخلہ اور حکومت برداشت نہیں کرتی اور اسلام آباد پولیس کی سختی سے مانیٹرنگ کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پرانی اور نامکمل ویڈیوز ہیں، جعلی اور نئی آوازیں بھر کر ویڈیوز اپ لوڈ کی جا رہی ہیں، ان کو بغیر تصدیق کے پھیلانے والے بھی اس میں ذمہ دار بن جاتے ہیں، ابھی مذاکرات ہو رہے تھے کہ یہ خبریں چلانا شروع کر دی گئیں کہ اسلام آباد پولیس سے تازہ دم دستے آزاد کشمیر بھجوائے جا رہے ہیں جس کا مقصد ان مذاکرات کو ناکام بنانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ اسلام آباد میں چیکنگ کے نام پر کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے، وفاقی پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے چیکنگ کرتی ہے، ہم نے ویڈیوز کا فرانزک کرایا ہے، ان میں آوازیں بھری گئی ہیں اور ٹوٹے جوڑ کر ایسی ویڈیوز بنائی گئی ہیں اور نامکمل ویڈیوز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پاکستان کا دارالخلافہ ہے، یہ کشمیری بہن بھائیوں کا گھر ہے، ہم اس معاملے میں انتہائی تحمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، ایسی ویڈیوز کو بغیر تصدیق شیئر کرنا غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل ہے، کوئی بھی ایسی ویڈیوز پر یقین نہ کرے، ایسی ویڈیوز بنانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔











