اسلام آباد،12نومبر (اے پی پی):صدر مملکت آصف علی زرداری سے فلپائن کی سابق صدر اور رکنِ پارلیمان گلوریا مکپاگال نے ایوانِ صدر میں بدھ کو ملاقات کی۔اس موقع پر صدرمملکت نے کہا کہ پاکستان اور فلپائن سات دہائیوں پر محیط دوستی اور تعاون کے رشتے میں بندھے ہیں۔انہوں نے 2022ء کے دفاعی تعاون کے معاہدے کو ایک سنگِ میل قرار دیتے ہوئے فلپائن کو 2026ء میں آسیان چیئرشپ سنبھالنے پر مبارکباد دی۔صدر مملکت نے فلپائن کی جانب سے پاکستان کی آسیان شمولیت کے لئے حمایت کو سراہا اور فلپائن میں حالیہ زلزلے اور طوفانوں میں جانی و مالی نقصان پر اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مشکل وقت میں فلپائن کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔صدر مملکت نے ماحولیات اور لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کے قیام میں فلپائن کے کردار کو سراہا اور خوراک اور ادویات کے شعبوں میں تجارتی تعلقات بڑھانے پر زور دیا۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ نجی شعبے کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے فلپائن کی طرف سے پاکستانیوں کو طویل مدتی رہائشی اجازت نامہ دینے کے فیصلے کو سراہا۔اس موقع پر گلوریا مکپاگال نے پاکستان کے ساتھ تجارت، دفاع اور عوامی روابط میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔انہوں نے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں جانی نقصان پر افسوس کا اظہارِ کیا۔گلوریا مکپاگال نے کہا کہ ان کے والد نے 1959ء میں پاکستان کا بطور صدر فلپائن دورہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور فلپائن کے درمیان دیرینہ احترام اور دوستی کے تعلقات قائم ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کے پانچویں بڑے ملک کی حیثیت سے گلوبل ساؤتھ میں قائدانہ کردار ادا کرے۔ملاقات میں فلپائن کے سفیر امینیوئل فرنانڈیز بھی موجود تھےجبکہ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، سینیٹر شیری رحمان اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا بھی ملاقات میں شریک تھے۔











