اسلام آباد: 12 نومبر )اے پی پی ): وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت موجودہ دور میں دنیا کی تیز رفتار تبدیلیوں کا مرکز بن چکی ہے جو معاشی ترقی، پالیسی سازی اور قومی سلامتی سمیت زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کر رہی ہےاور جدید ٹیکنالوجی کو سمجھنا اور اس کے ساتھ ہم آہنگ ہونا پاکستان کے پائیدار مستقبل کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے یہ بات مارگلہ ڈائیلاگ 2025 سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ وزارت آئی ٹی و ٹیلی کام وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں ایک واضح حکمتِ عملی کے تحت ملک کو ڈیجیٹل ترقی کی راہ پر گامزن کر رہی ہے تاکہ پاکستان صرف ٹیکنالوجی کا صارف نہیں بلکہ اس کا خالق اور شراکت دار بنے۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان اور انسانی وسائل ملک کا سب سے بڑا اثاثہ ہیں، اور ان کی استعداد کار میں اضافے کے لیے حکومت متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قومی مصنوعی ذہانت پالیسی (National AI Policy) کی منظوری اس سمت میں ایک اہم پیش رفت ہے، جو چھ بنیادی ستونوں پر مبنی ہے، جن میں تحقیق و اختراع کا فروغ، اخلاقی و محفوظ AI گورننس، انسانی صلاحیتوں کی ترقی، مختلف شعبوں میں ٹیکنالوجی کا انضمام، بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی اور بین الاقوامی تعاون شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو عالمی معیار کی تربیت کی فراہمی اور جدید ٹیکنالوجی کا فروغ ہماری اولین ترجیح ہے جس کے لیے متعدد اقدامات کیے جا رہے ہیں۔











