صدر آصف علی زرداری سے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹر علی اردشیر لاریجانی سے ملاقات ،صدر کا پاکستان۔ایران تعاون مزید بڑھانے پر زور

9

اسلام آباد، 25 نومبر(اے پی پی): صدر آصف علی زرداری سے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری ڈاکٹر علی اردشیر لاریجانی نے منگل کو ایوانِ صدر میں ملاقات کی۔صدر زرداری نے ڈاکٹر لاریجانی کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا منصب سنبھالنے پر مبارک دی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد اور تہران کے درمیان مسلسل رابطے دوطرفہ تعلقات میں مثبت پیش رفت کی علامت ہیں۔ صدر نے اگست میں ایرانی صدر سے ہونے والی اپنی ملاقات کا بھی گرمجوشی سے ذکر کیا۔

انہوں نے حالیہ سیلاب کے بعد پاکستان سے اظہارِ یکجہتی اور ایرانی ریڈ کریسنٹ کی جانب سے بھیجی گئی امداد پر ایرانی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے درمیان تعاون دونوں عوام کے مشترکہ مفاد میں ہے۔

ملاقات کے دوران صدر نے کہا کہ پاکستان اور ایران تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں جڑے دیرینہ تعلقات کے حامل ہیں۔ انہوں نے جنگِ ہند کے دوران ایران کی مسلسل حمایت پر شکریہ ادا کیا اور اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں ایران کے لیے پاکستان کی سیاسی و سفارتی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے حالیہ جنگ کے دوران ایرانی عوام کی ثابت قدمی اور سپریم لیڈر کی قیادت کو سراہا۔ صدر نے ایران کی جانب سے غیر قانونی بھارتی مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کے لیے اصولی حمایت پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔

صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات میں اضافے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے پاک۔ایران ریلوے لنک کو تجارت اور سیاحت کے فروغ کے لیے ترجیحی بنیادوں پر مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا، جس سے کاروباری سرگرمیوں اور زائرین کی آمدورفت میں آسانی پیدا ہوگی اور معاشی تعاون مزید گہرا ہوگا۔

ایران۔پاکستان گیس پائپ لائن کے حوالے سے صدر نے باہمی طور پر قابلِ عمل حل کی اہمیت اجاگر کی اور کہا کہ پاکستان کو اپنی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کے باعث اس منصوبے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے اسلام آباد میں ہونے والی تکنیکی بات چیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تہران میں آئندہ مذاکرات کا منتظر ہے۔

ڈاکٹر لاریجانی نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی حسینی خامنہ ای اور ایرانی صدر مسعود پزیشکیان کی نیک خواہشات صدر زرداری تک پہنچائیں۔ انہوں نے رواں سال کی 12 روزہ جنگ کے دوران ایران کے لیے پاکستان کی اخلاقی و سفارتی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ ڈاکٹر لاریجانی نے حالیہ واقعات میں پاکستان کی مسلح افواج کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کامیابی ہماری کامیابی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایرانی صدر کے دورۂ پاکستان کے بعد پاکستانی مصنوعات کو ایران میں ترجیحی رسائی دینے کے لیے متعدد احکامات جاری کیے گئے ہیں، جس سے 10 ارب ڈالر کی دوطرفہ تجارت کا ہدف حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

صدر نے ڈاکٹر لاریجانی سے کہا کہ وہ ان کے سلامِ مسنون سپریم لیڈر تک پہنچائیں۔

ملاقات میں علاقائی و بین الاقوامی صورتحال، سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی سے متعلق امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام شریک تھے۔ ایرانی وفد میں سفیر رضا امیری مقدم، علی باقری (ڈپٹی برائے خارجہ پالیسی و عالمی سلامتی)، علی رضا بیات (ڈپٹی برائے سیکیورٹی) اور علی رضا تقوائی زادہ (سیکریٹری ایشیا، یوریشیا و اوشیانا کمیٹی) شامل تھے۔پاکستانی جانب سے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف، سیکریٹری خارجہ اور سیکریٹری قومی سلامتی موجود تھے۔