وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے کینیڈین ہائی کمشنر طارق علی خاں کی قیادت میں وفد کی ملاقات

7

اسلام آباد۔4دسمبر  (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری سے  کینیڈین ہائی کمشنر طارق علی خاں کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی۔ملاقات میں پاکستان کے توانائی کے شعبے میں دوطرفہ تعاون اور سرمایہ کاری کے امکانات پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ ملاقات کے دوران طارق علی خاں نے کینیڈین کمپنیوں کی بجلی کی پیداوار کے شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ حکومت مستقبل میں بجلی خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ٹرانسمیشن، نیٹ ورک اپ گریڈیشن اور جدید ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کے مواقع  موجود ہیں جہاں سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش اور پائیدار منافع کے امکانات موجود ہیں۔

 وفاقی وزیر کی بریفنگ کے بعد طارق علی خاں نے ٹرانسمیشن سیکٹر میں بھی دلچسپی ظاہر کی اور کہا کہ کینیڈین کمپنیاں اس شعبے میں بھی ممکنہ سرمایہ کاری کے ماڈلز اور مواقع کا تفصیلی جائزہ لینے کی خواہش رکھتی ہیں۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ پاور ڈویژن کینیڈین اداروں کے ساتھ ٹرانسمیشن، متبادل توانائی اور بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز سمیت وہ تمام منصوبے شیئر کرے گا جن میں سرمایہ کاری کے امکانات موجود ہیں تاکہ عملی پیشرفت کو تیز کیا جا سکے۔ سردار اویس لغاری نے پاکستان میں مسابقتی بجلی کی منڈی کی جانب منتقلی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مستقبل میں حکومتی پاور پرچیز ماڈل ختم ہو جائے گا جس کے بعد نجی شعبے کے لیے زیادہ مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بزنس کونسل بھی ٹرانسمیشن میں پی پی پی ماڈل کے تحت سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتی ہے جو کینیڈین کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کے نئے راستے کھول سکتی ہے۔ وفاقی وزیر نے گلگت بلتستان میں جاری یوٹیلٹی سکیل سولر پروجیکٹ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کی سٹڈی جلد مکمل ہو جائے گی اور 4 سے 5 مقامات پر تقریباً 85 میگاواٹ کی ضرورت موجود ہے جو سرمایہ کاری کے لیے ایک بڑا موقع ہے۔ انہوں نے گوادرمیں توانائی کے انفراسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دستیاب گنجائش سے بھی وفد کو آگاہ کیا۔اویس لغاری نے کہا کہ حکومت کم لاگت کے اصول کے تحت تمام مستقبل کے منصوبے شفاف بنیادوں پر آگے بڑھا رہی ہے اور بیٹری انرجی سٹوریج سسٹمز میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان میں توانائی کے شعبے میں کینیڈین سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے قریبی رابطہ، تکنیکی تعاون اور منصوبوں کی تفصیلات کے تبادلے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔