اسلام آباد، 04 دسمبر (اے پی پی): وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے جنیوا میں منعقدہ گاوی بورڈ میٹنگ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور شرکا کو انسدادِ پولیو اور معمول کے حفاظتی ٹیکہ جات کے شعبوں میں ہونے والی قابلِ ذکر پیش رفت سے آگاہ کیا۔
وزیرِ صحت نے بتایا کہ مربوط حکمتِ عملی کے نتیجے میں پولیو کیسز 74 سے کم ہو کر 30 رہ گئے ہیں اور معمول کے حفاظتی ٹیکوں کی کوریج میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زیرو ڈوز بچوں کی نشاندہی اور ان تک رسائی حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔
مصطفیٰ کمال نے ای پی آئی اور پی ای آئی ٹیموں کے ساتھ کمیونٹی ہیلتھ ورکرز کی انتھک محنت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی شبانہ روز کاوشوں سے ملک بھر میں ویکسین کی رسائی ممکن ہوئی۔ وزیرِ صحت نے ہر بچے کے محفوظ مستقبل اور حفاظتی ٹیکوں کی کوریج میں مزید اضافے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیرِ صحت نے بتایا کہ ای پی آئی اور پی ای آئی کے مشترکہ اقدام سے مئی اور ستمبر میں 4 لاکھ زیرو ڈوز بچوں کی نشاندہی کی گئی جب کہ اعلیٰ معیار کی پولیو مہمات کے نتیجے میں لاکھوں بچوں تک ویکسین پہنچائی گئی۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ سال 2025 کے آخر میں پولیو مہم کا انعقاد 15 تا 21 دسمبر کو کیا جائے گا۔ قومی پولیو مہم میں 4 لاکھ سے زائد پولیو ورکرز خدمات انجام دیں گے اور اس دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔











