لاہور، 15 دسمبر ( اے پی پی ): وزیراعلیٰ پنجاب سیف جیل منصوبے پر عملدرآمد کیلئے محکمہ داخلہ و جیل خانہ جات کی ٹیم چین پہنچ گئی۔ وفد میں آئی جی جیل خانہ جات میاں فاروق نذیر، ایڈیشنل سیکرٹری پریزن رومان بورانہ، ڈی آئی جی پریزن نوید اشرف، ڈپٹی سیکرٹری ہوم توصیف صبیح گوندل، پراجیکٹ ڈائریکٹر امتیاز عباس، ڈپٹی پراجیکٹ ڈائریکٹر راجہ عمران اور سپرنٹنڈنٹ جیل سیدہ امبر نقوی شامل ہیں۔ نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے ماہرین کی ٹیم بھی وفد کے ہمراہ ہے۔ پنجاب کی جیلوں کو محفوظ تر بنانے کیلئے محکمہ داخلہ پنجاب کے وفد نے چین میں ہانگژو، شنگھائی، گوانگژو اور شینزین میں جدید سکیورٹی آلات بنانے والی فیکٹریوں کا دورہ کیا۔ اس دوران چینی ماہرین سے ملاقات میں پنجاب کی جیلوں کیلئے موثر اور قابل استعمال آلات کی جانچ کی گئی۔ سیف جیل منصوبے کے تحت پنجاب کی جیلوں میں 12 ہزار سے زائد جدید کیمرے نصب ہوں گے جس کیلئے حکومت پنجاب نے 5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ منصوبے کے تحت پنجاب کی جیلوں میں 615 پینک بٹن اور پبلک ایڈریس سسٹم، 328 باڈی کیم نصب ہوں گے۔ اسی طرح جیلوں میں 615 واکی ٹاکی سسٹم اور 41 ایکس رے باڈی سکینرز نصب کیے جائیں گے۔ پنجاب کی جیلوں میں 41 انڈر وہیکل سرویلنس سسٹم اور فیشل رکگنیشن سسٹم نصب ہوں گے۔ جیل سکیورٹی میں بہتری کیلئے 133 سافٹ ویئرز اور 24 ویڈیو کانفرنس سسٹم نصب ہوں گے۔ یہ جدید کیمرے چہروں اور وہیکلز کو شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ پنجاب کی جیلوں میں نائٹ وژن، اینٹی شیک، آرٹیفیشل انٹیلیجنس بیسڈ کیمرے نصب ہوں گے۔ تمام ملاقاتیوں پر نظر رکھنے کیلئے وزیٹر مینجمنٹ سسٹم آپریشنل ہوگا۔ جدید کیمرے ملزمان اور جیل عملے کی حاضری اور نقل و حرکت پر بھی نظر رکھیں گے۔ پنجاب کی جیلوں میں کسی بھی خلافِ ضابطہ حرکت پر آٹومیٹک الارم جنریٹ ہوگا۔ جیلوں کے داخلی خارجی راستے، دفاتر، بیرکس، سکیورٹی وال، جیمرز ایریا، کچن، ہسپتال، لائبریری سرویلنس میں آئیں گے۔ سیف جیل منصوبے کی انسٹالیشن کیلئے این آر ٹی سی کیساتھ معاہدہ کیا گیا ہے اور پنجاب بھر کی جیلوں میں منصوبے کی تکمیل کیلئے جون 2026 کی ڈیڈ لائن رکھی گئی ہے۔ منصوبے کی تکمیل کے ساتھ 5 سالہ آپریشنز اینڈ مینٹیننس بھی معاہدے میں شامل ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ مانیٹرنگ کیلئے تمام جیلوں، ریجنل ڈی آئی جی دفاتر، آئی جی جیل آفس اور محکمہ داخلہ میں کنٹرول روم بھی قائم ہو ں گے۔











