ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تمام امور کا حل صرف اور صرف مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے، سفیر عثمان جدون

15

اقوامِ متحدہ، 24 دسمبر ( اے پی پی)؛ پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے ایران کے جوہری معاملے پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تمام امور کا حل صرف اور صرف مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے؛ سفارت کاری کو کامیاب ہونے کے لیے مزید وقت دیا جانا چاہیے، تصادم سے گریز کیا جانا چاہیے اور کسی متبادل انتظام کے طے پانے تک جے سی پی او اے کے فریم ورک کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کے اس عجلت آمیز اقدام کی حمایت نہیں کی اور جلد بازی سے باز رہنے کی تلقین کی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ نہایت افسوسناک امر ہے کہ حالیہ مہینوں میں کونسل کے اندر اور اس سے باہر اختلافات مزید گہرے ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ہم اس مسئلے کے حل سے مزید دور ہوتے جا رہے ہیں۔ صورتِ حال پہلے ہی اقوامِ متحدہ کے منشور کی خلاف ورزیوں، طاقت کے یکطرفہ استعمال اور اسنیپ بیک میکنزم کے نفاذ سے متعلق مختلف تشریحات کے باعث مزید پیچیدہ ہو چکی تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تمام حل طلب امور کے تصفیے کے لیے سفارت کاری اور مکالمہ ہی بنیادی رہنما اصول ہونے چاہئیں، اور یہ عمل متعلقہ فریقین کے حقوق، فرائض اور ذمہ داریوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

ہم اب بھی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جبر پر مبنی اقدامات فریقین کو قریب لانے میں مددگار ثابت نہیں ہوتے بلکہ اعتماد کے فقدان کو مزید گہرا کرتے ہیں۔ پابندیاں براہِ راست سب سے زیادہ عام شہریوں کو متاثر کرتی ہیں، تجارت کو نقصان پہنچاتی ہیں، معاشی ترقی میں رکاوٹ بنتی ہیں اور علاقائی روابط کے امکانات کو کمزور کرتی ہیں۔

اسی لیے پاکستان نے ہمیشہ سفارتی رابطے کو اولیت دینے اور تصادم و تنازع سے اجتناب کی ضرورت پر زور دیا ہے۔