کینسر مریضوں کے علاج کیلئے 24 گھنٹے سہولیات کو یقینی بنایا جائے، وزیراعظم شہباز شریف

11

‎مظفر آباد۔28دسمبر  (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے آزاد کشمیر میں کینسر کی تشخیص و علاج کیلئے ہسپتال کے قیام کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت سے بڑھ کر کوئی کام نہیں، مریضوں کے علاج کیلئے 24 گھنٹے سہولیات کو یقینی بنایا جائے۔

‎وہ اتوار کو یہاں کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن ، آنکو لوجی اینڈریڈیو تھراپی (کنور) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔

‎  وزیر اعظم نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ دکھی انسانیت کی خدمت اور کینسر کی تشخیص و علاج کیلئے آزاد کشمیر میں بھی ہسپتال قائم کیا گیا ہے، اس سے بڑھ کر انسانیت کی کوئی خدمت ہو نہیں سکتی ، پہلے آزاد کشمیر کے مریضوں کو سینکڑوں میل کا سفر کرکے دور دراز کے شہروں میں جانا پڑتا تھا جو تکلیف دہ اور مہنگا تھا۔

‎   وزیر اعظم نے  ہدایت کی کہ جدید وسائل اور ذرائع کو بروئے کار لاکر اس مرض کا شکار مریضوں کا علاج معالجہ کیا جائے اور تمام سہولیات کو 24 گھنٹے فعال رکھا جائے، مریضوں کیساتھ ایسا رویہ ہو کہ انہیں حوصلہ ملے اور ان کو  علاج کیلئے مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔

‎قبل ازیں وزیر اعظم نے تختی کی نقاب کشائی کرکے ہسپتال و میڈیکل کالج کا افتتاح کیا۔ وزیر اعظم نے ہسپتال کے مختلف شعبوں اور نصب مشینری کا بھی معائنہ کیا۔ انہیں مرض کی تشخیص و علاج معالجے کی سہولیات کے بارے میں بریفنگ بھی دی گئی۔  چیئرمین پاکستان ایٹمی  توانائی کمیشن راجا علی رضا انور نے اپنے استقبالیہ کلمات میں وزیر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں ایٹمی توانائی کمیشن کے کینسر کے علاج کے لیے 21 ہسپتال کام کر رہے ہیں جن میں سے ایک وفاق ، 6 پنجاب ، 5 خیبر پختونخوا ، 5 سندھ ایک ایک بلوچستان ، گلگت بلتستان و آزاد کشمیر میں ہے، سالانہ دس لاکھ مریضوں کا علاج کرتے ہیں ، 60 فیصد مریض آخری سٹیج کے ہوتے ہیں، اس ہسپتال کے قیام سے مقامی سطح پر علاج ممکن ہوگا ۔

‎ڈی جی انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی رافیل ماریانو گروسی نے تقریب سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کینسر کے مریضوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ، 2050 تک ان میں 75 فیصد اضافے کا خدشہ ہے ، دنیا میں ایک کروڑ سے زائد مریض اس مرض کا شکار ہیں ، آزاد کشمیر میں کینسر کے علاج کے لیے ہسپتال کا قیام اہم سنگ میل ہے۔