موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی وزیراعظم کو پیش کرنے کے لیے تیار،ہارون اختر خان

12

اسلام آباد، 01 جنوری (اے پی پی ): وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان  کی زیرِ صدارت موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیکریٹری صنعت و پیداوار سیف انجم، چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ حماد منصور اور موبائل فون مینوفیکچررز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی 2026 تا 2033 پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ خصوصی معاونِ وزیراعظم ہارون اختر خان نے کہا کہ یہ پالیسی تمام اسٹیک ہولڈرز سے وسیع مشاورت کے بعد مرتب کی گئی ہے اور اس میں موبائل فونز، لیپ ٹاپس اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائسز شامل ہیں، جو اسے ایک جامع اور ہمہ جہت پالیسی بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی پاکستان کے لیے سادہ اسمبلنگ سے مکمل مینوفیکچرنگ کی جانب ایک اہم اور بنیادی تبدیلی کی علامت ہے اور ملک میں مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق پالیسی کے تحت عالمی برانڈز کو پاکستان میں مینوفیکچرنگ کے لیے راغب کیا جائے گا جبکہ مقامی برانڈز کو بھی اپنی پیداواری صلاحیت بڑھانے کے مواقع فراہم کیے جائیں گے، جبکہ فیز وائز مینوفیکچرنگ کے واضح اہداف اور ٹائم لائنز بھی مقرر کر دی گئی ہیں۔ ہارون اختر خان نے مزید کہا کہ اسمبلنگ سے مینوفیکچرنگ کی جانب منتقلی اب دہلیز پر ہے اور ملک کی معاشی ترقی کا براہِ راست انحصار اسی تبدیلی پر ہے۔ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ کے مطابق پالیسی کا ہدف 2033 تک موبائل فونز میں 50 فیصد لوکلائزیشن حاصل کرنا ہے، جبکہ پالیسی کے تحت 70 فیصد ای ویسٹ ریکوری کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے جس سے ماحولیات پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پالیسی کے تحت 50 ہزار ہنرمند افرادی قوت تیار کی جائے گی جن میں 15 ہزار خصوصی مہارت رکھنے والے ماہرین شامل ہوں گے، اور یہ موبائل اور الیکٹرانک ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی جلد وزیراعظم کو پیش کی جائے گی۔