وزیر اعظم کی سٹیٹ بینک کو کمرشل بینکوں کی جانب سے چھوٹے و درمیانے پیمانے کے کاروبار اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کا طریقہ کار مزید سہل بنانے کیلئے اقدامات کرنے کی ہدایت

7

‎اسلام آباد، 07جنوری (اے پی پی):وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سٹیٹ بینک کو ہدایت کی ہے کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروبار اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے اقدامات  کئے  جائیں۔

‎وہ بدھ کو یہاں اپنی زیر صدارت چھوٹے و درمیانے پیمانے کے نئے کاروبار و چھوٹے کسانوں کو قرض کی فراہمی میں سہولت، معاشی شمولیت اور نجی شعبے کو قرض کی فراہمی پر جائزہ اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

‎وزیر اعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ زراعت کے شعبے میں جدت کے فروغ کیلئے سروس پرووائیڈرز کو ترجیحی بنیادوں پر قرض کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ معاون خصوصی ہارون اختر سمیڈا کی ٹیم کے ہمراہ گلگت بلتستان اور کشمیر سمیت تمام صوبوں کا دورہ کریں اور چھوٹے و درمیانے پیمانے کے کاروبار کی سہولت کیلئے صوبوں کے ساتھ مل کر جامع پالیسی سازی کریں۔ انہوں نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں ایس ایم ایز معیشت اور صنعتی شعبے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو انٹرپرینیورشپ کی تربیت فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ نئے کاروبار شروع ہوں اور ملک  کی  معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نجی شعبے بالخصوص ایس ایم ایز اور چھوٹے کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے قرض کی فراہمی میں سہولت حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

‎اجلاس میں نجی شعبے کو گزشتہ برسوں میں کاروبار، مشینری اور جدید ٹیکنالوجی کیلئے فراہم کئے گئے قرض کے اعداد و شمار اور معیشت کی بہتری کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں اضافے پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ 22-2021 کی نسبت دسمبر 2025ء میں نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے قرض کی فراہمی میں بہتری آئی اور قرض حاصل کرنے والوں کی تعداد دو گنا ہو کر 3 لاکھ تین ہزار کی سطح عبور کر گئی اور قرض کا حجم 1.1 ٹریلین ہو گیا ہے، زرعی شعبے میں رواں برس قرض سے مستفید ہونے والے کسانوں کی تعداد کا تخمینہ 30 لاکھ لگایا گیا ہے جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد 28 لاکھ رہی۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ کمرشل بینکوں کی جانب سے نئے کاروبار اور جدید مشینری کیلئے قرض کی فراہمی کو ترجیح دینے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، زرعی شعبے کو فراہم کئے گئے قرض میں جدید مشینری اور فصلوں کے ساتھ ساتھ لائیو سٹاک اور فشریز کے شعبے بھی شامل ہیں،سمیڈا چھوٹے اور درمیانے پیمانے کے کاروباروں کو مالیاتی امور کی تربیت اور آگاہی کیلئے جلد ایک پروگرام کا اجراء کرے گا، پنجاب میں کسانوں کو جدید زرعی آلات ومشینری کی فراہمی کیلئے سروس پرووائیڈرز کو قرض کی فراہمی کے پروگرام کا اجراء کیا جا چکا ہے۔ علاوہ ازیں اجلاس کو بتایا گیا کہ چھوٹے کسانوں کو قرضوں کی فراہمی میں سہولیت کیلئے سٹیٹ بینک کی جانب سے مکمل طور پر ڈیجیٹل نظام پر مبنی ‘‘زرخیز۔ای ایپ’’ کا اجراء بھی کیا چکا ہے جس سے کسانوں کی بڑی تعداد مستفید ہو رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس حوالے سے باقاعدگی سے  اجلاس کی صدارت اور نگرانی کریں گے اور جلد اس حوالے سے ایک ذیلی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا جائے گا جو ملک میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کیلئے نجی شعبے بالخصوص ایس ایم ای سیکٹر اور زرعی شعبے کو قرض کی فراہمی کے طریقہ کار کو مزید سہل بنانے کیلئے سفارشات مرتب کرے گی۔