اسلام آباد،9جنوری(اے پی پی):وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جواہرات و قیمتی پتھروں(جیمزسٹونز) کے شعبے کی اصلاحات اور اسے بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے قومی پالیسی فریم ورک کی اصولی منظوری دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں جواہرات و قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں، ترجیحی بنیادوں پر جیولاجیکل سروے سے ذخائر کے جغرافیے اور مالیت کا تعین کیا جائے ، پالیسی فریم ورک میں بیرونی سرمایہ کاری کیلئے موزوں ماحول کی فراہمی کو اولین ترجیح دی جائے،پاکستانی قیمتی پتھر دنیا بھر میں اپنے معیار کے حوالے سے مقبول ہیں، سمگلنگ کے سدباب اور قانونی طریقے سے برآمد سے اربوں ڈالر زر مبادلہ کا حصول یقینی بنائیں گے۔
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں جواہرات و قیمتی پتھروں کے ذخائر، شعبے کی اصلاحات، برآمدات میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ پر اعلی سطح کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر اور متعلقہ اعلی حکام نے شرکت کی ۔اجلاس کو پاکستان میں قیمتی پتھروں کی استعداد، علاقائی تقابلی جائزہ، برآمدات میں اضافے کیلئے درکاراقدامات اور قومی پالیسی فریم ورک کے خدوخال و نفاذ کی معینہ مدت کے اہداف پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے رواں برس پالیسی فریم ورک میں تفویض کردہ اقدامات پر عملدرآمد کو یقینی بنانے ، ترجیحی بنیادوں پر جیولاجیکل سروے سے ذخائر کے جغرافیے اور مالیت کا تعین کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اس امر میں تمام متعلقہ ادارے، صوبائی حکومتوں اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت یقینی بنائی جائے،بین الاقوامی معیار کی لیبارٹریز اور سرٹیفیکشنز کے نفاذ کیلئے فوری اقدامات عمل میں لائے جائیں،پالیسی فریم ورک میں بیرونی سرمایہ کاری کیلئے موزوں ماحول کی فراہمی کو اولین ترجیح دی جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ رواں برس ملک میں جیم سٹونز سے متعلقہ دو مثالی سینٹرز آف ایکسیلینس کا قیام عمل میں لایا جائے،پاکستان میں جیم سٹونز کے ذخائر کے مقابلے میں برآمدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نجی کمپنیوں بالخصوص نوجوان آنٹرپرینیورز کی اس شعبے میں حوصلہ افزائی کی جائے،پاکستانی قیمتی پتھر دنیا بھر میں اپنے معیار کے حوالے سے مقبول ہیں، سمگلنگ کے سدباب اور قانونی طریقے سے برآمد سے اربوں ڈالر زر مبادلہ کا حصول یقینی بنائیں گے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ ماہرین کی مدد سے پالیسی فریم ورک پر عملدرآمد میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جائے۔وزیرِ اعظم نے وزارت خزانہ کو شعبے کی ترقی کیلئے موجودہ مالی وسائل کی فوری فراہمی کی ہدایت بھی کی ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان میں جوہرات و قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں جس کا محتاط تخمینہ 450 ارب ڈالر ہے، پاکستان میں اس وقت 5 ہزار سے زائد کمپنیاں و کاروبار اس شعبے سے منسلک ہیں جو پاکستان میں پائے جانے والے 30 سے زائد قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ کے حوالے سے کام کر رہے ہیں، پاکستان میں پائے جانے والے قیمتی پتھروں میں زمرد، زبرجد، یاقوت، پکھراج اور نیلگوں زبرجد کے ذخائر سر فہرست ہیں۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ 450 ارب ڈالر کے ذخائر کے مقابلے پاکستان کی برآمدات صرف 5.8 ملین ڈالر سالانہ ہیں، وزارت صنعت و تجارت نے قومی پالیسی فریم ورک کی تیاری کے دوران مسائل کی نشاندہی کے بعد ترجیحی پالیسی اقدامات کا ایک جامع لائحہ تیار کیا ہے جو 5 برس میں اصلاحات کے ذریعے پاکستان کی اس شعبے کی درآمدات کے حوالے سے ایک ارب ڈالر کے ہدف کا حصول یقینی بنائے گا۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ رواں برس کے دوران وزارت صنعت و تجارت پالیسی فریم ورک کے تحت قیمتی پتھروں کی ویلیو چین کی قومی معیشت میں شمولیت، پتھروں کی پاکستان میں پراسیسنگ کے ذریعے قدر میں اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ و نجی شعبے کے تربیتی پروگرامز کے ساتھ ساتھ برانڈ پاکستان کے تعارف کو یقینی بنائے گی،پالیسی فریم ورک میں بین الاقوامی معیار کا سرٹیفیکشن رجیم، شعبے کی ترقی اور سرمایہ کاری کے اضافے کیلئے اتھارٹی کا قیام، نیشنل وارنٹی آفس کا قیام، جیولاجیکل میپنگ، قیمتی پتھروں کی کان کنی میں جدید ٹیکنالوجی کے نفاذ، برانڈ پاکستان کا تعارف، سینٹرز آف ایکسلینس کا قیام جیسے اقدامات شامل ہیں۔اجلاس کو پالیسی فریم ورک کے نفاذ کی معینہ مدت پر بھی بریفنگ دی گئی۔











