اسلام آباد۔12جنوری (اے پی پی):سیکریٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے پانچ روزہ سائبر صلاحیت سازی اور پالیسی تربیتی پروگرام کا افتتاح کیا۔یہ پروگرام اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تخفیف اسلحہ تحقیق کے اشتراک اور گلوبل افیئرز کینیڈا کی معاونت سے منعقد کیا جا رہا ہے جس کا مقصد ابھرتے ہوئے سائبر خطرات اور سائبر سپیس میں حکمرانی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قومی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا ہے۔
افتتاحی سیشن سے کلیدی خطاب میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے قومی استحکام، بین الاقوامی امن و سلامتی اور پائیدار ترقی کے لیے سائبر سکیورٹی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے معلومات و مواصلات کی ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کی سکیورٹی سے متعلق کثیرالجہتی عمل میں پاکستان کے فعال کردار پر روشنی ڈالی، خصوصاً سائبر سپیس میں ریاستوں کے ذمہ دارانہ رویے کے لیے اقوام متحدہ کے فریم ورک کے تناظر میں جس میں بین الاقوامی قانون، رضاکارانہ اصول، اعتماد سازی کے اقدامات اور صلاحیت سازی کے اقدامات شامل ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مشترکہ سائبر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
افتتاحی اجلاس میں دیگر مقررین میں رابن گائس (ڈائریکٹر، یو این آئی ڈی آئی آر)، پاکستان میں کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان اور پاکستان میں اقوام متحدہ کے ریزیڈنٹ کوآرڈینیٹر محمد یحییٰ شامل تھے۔
مقررین نے سائبر شعبے میں بین الاقوامی تعاون اور صلاحیت سازی کی اہمیت پر زور دیا اور پالیسی پر مبنی تربیت اور عملی مشقوں کی افادیت کو اجاگر کیا جو ریاستوں کی سائبر خطرات بالخصوص اہم انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہیں۔یہ پروگرام متعلقہ قومی اداروں سے تعلق رکھنے والے پالیسی سازوں، تکنیکی ماہرین اور ماہرینِ تعلیم کو یکجا کرتا ہے اور اس میں ماہرین کی زیر قیادت سیشنز، منظرنامہ جاتی مباحثے اور ٹیبل ٹاپ مشقیں شامل ہیں جن میں سائبر خطرات، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، سائبر کرائم، واقعہ جاتی ردعمل اور بین الاقوامی تعاون کے فریم ورکس کا احاطہ کیا گیا ہے۔
یو این آئی ڈی آئی آر پاکستان سائبر صلاحیت سازی اور پالیسی تربیتی پروگرام 12 تا 16 جنوری 2026ء تک اسلام آباد میں منعقد ہو رہا ہے اور اسے یو این آئی ڈی آئی آر وزارت خارجہ پاکستان کے ساتھ قریبی تعاون سے مربوط کر رہا ہے۔











