کوئٹہ، 15 جنوری (اے پی پی ) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان میرسرفراز بگٹی نے جمعرات کوکوئٹہ کے علاقے سپنی روڈ پرواقع کاکڑ ٹاﺅن میں شہید میجر انور کاکڑ کی رہائش گاہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے شہید کی والدہ، بھائیوں اور کمسن بیٹوں سے ملاقات کی اور دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا۔اس موقع پر محسن نقوی اور سرفراز بگٹی نے بھارتی سپانسرڈ دہشت گردی کے بزدلانہ حملے میں جامِ شہادت نوش کرنے والے میجر انور کاکڑ کی عظیم قربانی کو زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا اور شہید کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی۔وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہید کی والدہ کے بلند حوصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ آپ پاکستان کے بہادر بیٹے کی باہمت والدہ ہیں اور پوری قوم کو آپ پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا عزم اور جذبہ ہی قوم کی اصل قوت ہے، شہید میجر انور کاکڑ اور ان کا خاندان قوم کے سر کا تاج ہے۔محسن نقوی نے شہید کے کمسن بیٹوں سے شفقت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پیار کیا اور دلاسہ دیا۔ اس موقع پر انہوں نے اعلان کیا کہ شہید میجر انور کاکڑ کے دوسرے بیٹے کو بھی ایچی سن کالج میں داخلہ دیا جائے گا۔شہید کی والدہ نے اس موقع پر کہا کہ میرا بیٹا شیر تھا جو وطن پر قربان ہو گیا، مجھے اس کی شہادت پر فخر ہے اور میرے دو اور بیٹے بھی وطن کے لیے حاضر ہیں۔وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ میجر انور کاکڑ نے اپنی قیمتی جان وطن پر نچھاور کی اور شہادت کا بلند رتبہ پایا۔ انہوں نے شہید کی قربانی کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہدا قوم کا فخر اور سرمایہ افتخار ہیں اور قوم اپنے ہیروز کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولے گی۔ سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ شہید میجر انور کاکڑ کے بھائی خدائیداد خان کو سرکاری ملازمت دی جائے گی جبکہ ایک اسکول کو بھی شہید میجر انور کاکڑ کے نام سے منسوب کیا جائے گا۔آخر میں محسن نقوی اور سرفراز بگٹی نے شہید کے اہلِ خانہ کے لیے صبر و استقامت کی دعا کی۔اس موقع پر صوبائی وزرا، چیف سیکرٹری بلوچستان اور آئی جی پولیس بلوچستان بھی موجود تھے۔واضح رہے کہ میجر انور کاکڑ کچھ عرصہ قبل کوئٹہ میں بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردوں کے بزدلانہ دھماکے کے دوران دفاعِ وطن میں شہید ہوئے تھے۔











