اسلام آباد۔17جنوری (اے پی پی):دی لٹل آرٹ نے 18ویں آرٹ بیٹ نیشنل چلڈرن آرٹ نمائش اور تقریب تقسیم انعامات کا اسلام آباد آرٹ گیلری میں کامیاب انعقاد کیا۔ یہ تقریب آرٹ بیٹ کے لیے ایک اور اہم سنگ میل ثابت ہوئی جو پاکستان کا سب سے بڑا اور طویل عرصے سے جاری بچوں اور نوجوانوں کے لیے بصری فنون کا پلیٹ فارم ہے۔
آرٹ بیٹ نے ملک بھر کے بچوں کو تین موضوعات قدرتی مناظر، پاکستان میں بہار اور ستاروں سے آگے پر تخلیقی انداز میں اظہارِ خیال کرنے کی دعوت دی۔ اس سال ملک کے 100 سے زائد شہروں کے 500 سے زائد اسکولوں سے ہزاروں آرٹ ورک موصول ہوئے، جن میں پبلک سکولز اور خصوصی ضرورت مند بچے بھی شامل تھے جو فن کی تعلیم تک مساوی رسائی اور شمولیت کے عزم کا عکاس ہے۔ایک معتبر جیوری کے ذریعے سخت انتخاب کے بعدشمالی خطے کے 85 شاندار آرٹ ورک منتخب کیے گئےجن میں راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور اور ایبٹ آباد کے کام شامل تھےجو اسلام آباد میں نمائش کے لیے پیش کیے گئے۔
18ویں آرٹ بیٹ جیوری میں عرفان گل ڈاہری، شیرین بانو رضوی، علی عظمت، وقاص خان، کرن سلیم، اور ناجیہ اعظم شامل تھے جنہوں نے ہر آرٹ ورک کا اصلیت،تخلیقی صلاحیت، اور ہر بچے کی منفرد بصری زبان کو مدنظر رکھتے ہوئے جائزہ لیا۔اس موقع پردی لٹل آرٹ کےپروجیکٹ مینیجر اویس شفیق نے کہا کہ جیوری نے ہر آرٹ ورک کا بہت احترام اور حساسیت کے ساتھ جائزہ لیا۔ آرٹ بیٹ اب بھی وہ پلیٹ فارم ہے جہاں بچوں کی آوازیں نہ صرف دیکھی جاتی ہیں بلکہ ان کی قدر بھی کی جاتی ہے۔
افتتاحی تقریب میں بصری فنون، تعلیم، سفارت کاری، سائنس اور موسیقی کے شعبوں سے معزز مہمانانِ خصوصی نے شرکت کی جن میں اعظم جمال بصری فنکار اور مجسمہ ساز جو مختلف یونیورسٹیوں کے فائن آرٹ ڈیپارٹمنٹس سے وابستہ ہیں۔زرین گل، بصری فنکار اور آرٹ ایجوکیٹر جو مختلف یونیورسٹیوں کے فائن آرٹ ڈیپارٹمنٹس سے وابستہ ہیں۔عقیل احمد سولنگی ایسوسی ایٹ پروفیسر اور این سی اے راولپنڈی میں پینٹنگ اور مجسمہ سازی کے سربراہ، نادیہ بتول حسین، بصری فنکار آرٹ ایجوکیٹر اور این سی اے راولپنڈی میں اسسٹنٹ پروفیسر، لوویسا ہوفمن، سویڈش ایمبیسی میں فرسٹ سیکرٹری، انسانی حقوق کی علمبردار اور بین الاقوامی ترقی کی ماہر، یمنا مجید، اسپیس ایجوکیٹر اور “Exploration” کی بانی ،نتاشہ حمیرا اعجاز، گلوکارہ، گیت نگار،پروڈیوسر اور وائس ایکٹر اور پاکستان کی انڈی پاپ اور فوک جاز موسیقی کی نمایاں شخصیت شامل تھے۔
آرٹ بیٹ جو 2012 میں دی لٹل آرٹ کے ذریعے شروع ہوا بچوں میں بصری ثقافت کی پرورش، تنقیدی اور تخلیقی سوچ کو فروغ دینے اور ملک بھر کے نوجوانوں کی آواز کےلیے ایک بامعنی پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے کام کرتا رہا ہے۔ گزشتہ اٹھارہ ایڈیشنز کے دوران آرٹ بیٹ نے ملک بھر میں ہزاروں نوجوان فنکاروں کو شامل کیا ہے۔دی لٹل آرٹ خاص طور پر کم نمائندگی والے کمیونٹیز کے بچوں اور نوجوانوں کو فنون کی تعلیم، تخلیقی اظہار اور ثقافتی شرکت کے ذریعے بااختیار بنانے کے لیے پرعزم ہے۔











