بھارت مقبوضہ کشمیر، اقلیتوں کے خلاف مظالم اور سرحد پار دہشت گردی کی سرپرستی کے باعث عام شہریوں کے خلاف سنگین جرائم کا مرتکب ہو  رہا ہے ، سیکریٹری ذوالفقار علی

68

اقوامِ متحدہ، 21 جنوری ( اے پی پی): اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری ذوالفقار علی کا کہنا ہے کہ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں ،  بھارت کے اندر  اقلیتوں کے خلاف مظالم اور سرحد پار دہشت گردی کی سرپرستی کے باعث عام شہریوں کے خلاف سنگین جرائم کا مرتکب ہو  رہا ہے۔

جرائمِ انسانیت کی روک تھام و سزا سے متعلق اقوامِ متحدہ کی کانفرنس کی تیاریاتی کمیٹی کے اجلاس میں بھارت کے جواب میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کو انسانیت کے خلاف جرائم پر کسی ایسے ملک کے لیکچر کی کوئی ضرورت نہیں جو خود بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے منشور کا مسلسل اور سنگین خلاف ورزی کرنے والا ہو۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کوہ ملک ہے جس نے  پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عام شہریوں، حتیٰ کہ اپنے گھروں میں سوتے ہوئے بچوں کو نشانہ بنایا؛ جو جموں و کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد سے مسلسل انکار کرتا رہا؛ جس نے پیلٹ گنز کے ذریعے کشمیری بچوں کی بینائی چھینی؛ جس نے سندھ طاس معاہدے کو معطل اور پامال کیا—حالانکہ اس معاہدے میں یکطرفہ معطلی کی کوئی گنجائش موجود نہیں اور ایسی خلاف ورزیوں کی فہرست طویل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ملک دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ ملی بھگت کے ذریعے اپنے ہمسایہ ممالک میں تخریب اور انتشار کے بیج بو رہا ہے اور سیاسی مخالفین کے خلاف عالمی سطح پر قتل و غارت کی مہمات بے خوفی سے چلا رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ انتہاپسند ہندوتوا نظریے اور حکمران اشرافیہ کے درمیان موجود گٹھ جوڑ کے باعث بھارت میں اقلیتیں، بالخصوص مسلمان، تیزی سے گھیٹوبندی کے سنگین خطرے سے دوچار ہیں۔ صرف گزشتہ ماہ کرسمس کے موقع پر کیرالا میں کیرول گانے میں مصروف بچوں پر انتہاپسند ہجوم نے حملہ کیا، جبکہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں کرسمس منانے والی ایک بصارت سے محروم خاتون کے ساتھ بدسلوکی کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کا یہ دعویٰ کہ جموں و کشمیر اس کا اٹوٹ انگ ہے، تاریخ، جغرافیہ، انصاف اور اصولِ عدل—اور سب سے بڑھ کر بین الاقوامی قانون—کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق جموں و کشمیر ایک متنازع خطہ ہے، جس کا حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔ حقِ خودارادیت کشمیری عوام کا پیدائشی اور ناقابلِ تنسیخ حق ہے، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور میں تسلیم کیا گیا ہے—ایک ایسا حق جس کا وعدہ بھارت نے خود کشمیریوں سے کیا تھا، مگر جسے وہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے ہنوز ہٹ دھرمی سے پامال کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم عالمی برادری پر بھی زور دیتے ہیں کہ وہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری نظر رکھے، تاکہ اس ضمن میں ہماری اجتماعی ناکامی ہمیں کسی اور بڑے المیے کی جانب غفلت کے عالم میں نہ دھکیل دے۔