وزارتِ صحت اور ڈریپ کا ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے خلاف عالمی تعاون اور مقامی تیاری کی جانب اہم قدم

44

اسلام آباد، 30 جنوری 2026 (اے پی پی): وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت آج ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں چین کی معروف دوا ساز کمپنی ہواہوئی ہیلتھ کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں پاکستان میں تیزی سے پھیلتے ہوئے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس کے دوران چینی کمپنی نے جدید تحقیق پر مبنی ہیپاٹائٹس ڈیلٹا تھراپی  کی پیش رفت سے آگاہ کیا۔ بتایا گیا کہ یہ دوا حال ہی میں فیز ٹو کے کامیاب بین الاقوامی کلینیکل ٹرائلز مکمل کر چکی ہے اور چین میں محفوظ اور مؤثر ہونے کی بنیاد پر اس کی منظوری بھی حاصل کی جا چکی ہے۔ امریکن فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اس علاج کو بریک تھرو تھراپی کا درجہ دیا ہے۔

وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت ہواہوئی ہیلتھ اور پاکستان کی ممتاز مقامی دوا ساز کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کے فروغ کے لیے اقدامات کرے گی۔ اس اقدام کے تحت جدید حیاتیاتی ادویات کی مقامی تیاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دیا جائے گا۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ایک سنگین طبی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ہیپاٹائٹس ڈیلٹا جگر کو متاثر کرنے والا ایک منفرد اور خطرناک وائرس ہے جو صرف اس صورت میں بیماری پیدا کرتا ہے جب اس کے ساتھ ہیپاٹائٹس بی وائرس بھی موجود ہو۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی کے مریضوں کی بڑی تعداد کے تناظر میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ایک اہم عوامی صحت کا مسئلہ ہے جس سے مؤثر حکمتِ عملی بروقت تشخیص اور مربوط علاج کے ذریعے نمٹنا ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر صحت کے مطابق اندازوں کے مطابق ملک بھر میں دس لاکھ سے زائد افراد اس مرض سے متاثر ہیں جبکہ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ مرض جگر کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی کے تقریباً 20 فیصد مریض ہیپاٹائٹس ڈیلٹا سے بھی متاثر ہو سکتے ہیں تاہم معمول کی تشخیصی جانچ کے فقدان کے باعث بڑی تعداد میں مریض بروقت تشخیص سے محروم ہیں۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت اس دوا کی سستی اور پائیدار فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مربوط اقدامات کر رہی ہے اور پاکستانی عوام کو محفوظ معیاری اور جان بچانے والی جدید ادویات تک بروقت رسائی دینا اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈریپ ایک شفاف سائنسی اور عالمی معیار کے مطابق منظوری کے عمل کو یقینی بنائے گا۔

اجلاس میں تمام فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان میں فیز تھری کلینیکل ٹرائلز کے ریگولیٹری عمل کو تیز کیا جائے گا تاکہ سخت نگرانی اور عالمی معیار کے مطابق یہ جدید علاج جلد از جلد مستحق مریضوں تک پہنچ سکے۔