بلوچستان میں دہشتگردوں کے خلاف آپریشن میں216 دہشت گرد ہلاک، کوئٹہ میں سرچ آپریشن کے دوران 100مشتبہ افراد کو حراست میں لیاگیا،شاہد رند

12

کوئٹہ۔ 05 فروری (اے پی پی):وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی امور و میڈیا افیئرز شاہد رند نے کہاہے کہ اب تک مختلف آپریشنز کے دوران 216 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں جبکہ 36 عام شہری اور 22  سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں۔ بظاہر دہشت گردوں کا ہدف ریڈ زون تھالیکن دہشتگردوں کے حملے کوناکام بنادیاگیا، صوبے بھر میں تمام شاہراہیں کھلی ہیں اور سکیورٹی کے حوالے سے طے شدہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

 اس موقع پر صوبائی وزرا ء میر علی مدد جتک، بخت محمد کاکڑ، میر شعیب نوشیروانی، پارلیمانی سیکرٹری حاجی ولی محمد نورزئی ،ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے سیاسی امور و میڈیا افیئرز شاہد رند نے بتایا کہ صوبے کے 12 مختلف مقامات پر کلیئرنس آپریشن مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ کوئٹہ میں سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں سرچ آپریشن کے دوران 100 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے اور بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ جن خاندانوں کے بچے کالعدم تنظیموں کے ساتھ منسلک پائے گئے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ شاہد رند  نے کہاکہ ریڈ زون کے قریب سکیورٹی فورسز نے آخری وقت تک دہشت گردوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور بظاہر دہشت گردوں کا ہدف ریڈ زون تھا۔

شاہد رند نے بتایا کہ صوبے بھر میں تمام شاہراہیں کھلی ہیں اور سکیورٹی کے حوالے سے طے شدہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ شاہد رند نے مزید کہا کہ جہاں سکیورٹی آپریشن جاری ہے وہاں انٹرنیٹ بند ہوگا البتہ بلوچستان بھر میں شام سے انٹرنیٹ سروس بحال کر دی جائے گی تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے دہشت گردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔