لاہور، 7 فروری (اے پی پی): وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ دہشت گرد قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتے، دہشت گردی کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا جائے گا اور اس کے تمام سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
وہ ہفتہ کے روز جامعہ منہاج الحسین میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے، جہاں انہوں نے اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں جمعہ کی نماز کے دوران امام بارگاہ میں ہونے والے خودکش دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ریاست شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور عبادت گاہوں کی حفاظت کیلئے پرعزم ہے۔ کسی کو بھی ملک میں فرقہ واریت پھیلانے یا امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چند سکوں کی خاطر انسانیت کا قتل انتہائی گھناؤنا اور قابل مذمت جرم ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ اسلام آباد واقعے پر پوری قوم سوگوار ہے۔ خودکش حملہ آور کی شناخت ہو چکی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔ حکومت شہداء کے لواحقین کے ساتھ کھڑی ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ہدایت پر زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ پاک فوج قومی سلامتی کیلئے عظیم قربانیاں دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی خصوصی ہدایت پر وہ دلی دکھ کے ساتھ جائے وقوعہ پر گئے، متاثرہ خاندانوں سے اظہار تعزیت اور یکجہتی کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں افراتفری پھیلانے والوں کو ہرگز معاف نہیں کیا جائے گا اور واقعے میں ملوث عناصر کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
وفاقی وزیر نے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عبادت گزاروں کو نشانہ بنانا بزدلانہ اور سفاکانہ فعل ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ریاست اپنے شہریوں کی جان، مال اور عبادت گاہوں کے تحفظ کیلئے ثابت قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب یا عقیدہ نہیں ہوتا، ان کا مقصد صرف انسانیت سوز کارروائیاں کرنا ہے۔ ایسے عناصر کو انسان کہنا بھی انسانیت کی توہین ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں سرگرم دہشت گرد عناصر کو بیرونی سرپرستی حاصل ہے اور دشمن پاکستان کے امن، اتحاد اور ترقی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ قوم دہشت گردی کے خلاف متحد ہے اور انتہاپسندی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ خودکش حملہ آور نے افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی جبکہ حملوں کے پیچھے بھارت اور افغانستان سے تعلق رکھنے والے عناصر کے شواہد بھی ملے ہیں۔ فرانزک ٹیموں اور سکیورٹی اداروں نے شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور مکمل حقائق جلد عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے امام بارگاہ انتظامیہ سے ملاقات کر کے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کی فوری نشاندہی کا حکم دیا گیا ہے۔ امن کے فروغ اور دہشت گرد بیانیے کے سدباب کیلئے “پیغامِ امن کمیٹی” قائم کی گئی ہے جس میں تمام مکاتب فکر کی نمائندگی شامل ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق 170 زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور شہداء کے خاندانوں کی مکمل کفالت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد آخری سانسیں لے رہے ہیں اور ہارڈ ٹارگٹس تک رسائی نہ ہونے کے باعث سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں، تاہم ان کا مکمل خاتمہ قریب ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاک فوج اور سکیورٹی ادارے ملک کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے شب و روز مصروف عمل ہیں۔ سکیورٹی اہلکاروں کے خاندانوں کو نشانہ بنانے جیسے بزدلانہ ہتھکنڈے بھی قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے بلکہ مزید مضبوط بناتے ہیں۔
اس موقع پر جامعہ کے بانی و سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر محمد حسین اکبر نے کہا کہ عبادت گاہ کو نشانہ بنانا انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے۔ دشمن پاکستان کو کمزور کرنا چاہتا ہے مگر پوری قوم متحد ہے۔ دہشت گردی کا ملک میں کوئی مقام نہیں اور ملوث عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جانی چاہیے۔بعد ازاں وفاقی وزیر اور مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے اتحاد و یکجہتی کے اظہار کیلئے انسانی زنجیر بھی بنائی۔











