اسلام آباد، 09 فروری (اے پی پی): او آئی سی ویکسین مینوفیکچررز گروپ کے چوتھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت مصطفٰی کمال نے کہا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ ویکسین پالیسی تیار کی گئی ہے اور ہیلتھ کیئر کی جانب پہلا قدم ویکسین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج پاکستان جو ویکسین خریدتا ہے اس کی لاگت 4 ملین ڈالرز ہے جس میں 51 فیصد لاگت پاکستان جبکہ 49 فیصد گاوی اور دیگر ڈونرز ادا کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ سال 2030 میں سو فیصد ویکسین پاکستان کو خود خریدنا ہوں گی اور بین الاقوامی شراکت کے خاتمے کے بعد 1.2 بلین ڈالرز پاکستان کو خود ادا کرنا ہوں گے۔
مصطفٰی کمال نے کہا کہ اس صورتحال کے تناظر میں مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں ویکسین کی تیاری کے حوالے سے سعودی وفد پاکستان آیا اور سعودی عرب گزشتہ دس سال سے ویکسین کی تیاری پر کام کر رہا ہے۔ ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے سعودی عرب کے ساتھ پارٹنرشپ کی جا رہی ہے اور اس ضمن میں سعودی وزیر صنعت سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان بلحاظ آبادی دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور حکومت پاکستان شہریوں کو 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کر رہی ہے تاہم کوئی بھی ویکسین ملک میں تیار نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان گاوی کے ذریعے ویکسین منگواتا رہا ہے جو بھارت سے آتی تھیں تاہم مستقبل قریب میں پاکستان ویکسین کی تیاری میں خود کفیل ہو گا۔
مصطفٰی کمال نے او آئی سی ویکسین الائنس بنانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک کے ویکسین اتحاد کی ضرورت ہے اور مشترکہ طور پر کام کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ شارٹ میڈیم اور لانگ ٹرم او آئی سی ویکسین الائنس پر آج سے کام شروع کیا جائے گا اور اسلامی ممالک کو ایک دوسرے کے تجربات سے مستفید ہونا چاہیے۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ حالیہ پاک بھارت جنگ کے دوران ویکسین کی قلت کے تجربے کے بعد مستقل منصوبہ بندی کا فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صحت مندانہ ماحول صحت مند قوم اور معاشی استحکام قومی سلامتی سے جڑے ہیں اور ویکسین کی تیاری شعبہ صحت کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان 24 کروڑ آبادی کا ملک ہے جہاں ہر سال 60 لاکھ سے زائد آبادی میں اضافہ ہو رہا ہے اور ویکسین کی مقامی تیاری ایک بڑا چیلنج ہے تاہم ملک میں انفراسٹرکچر کی کمی نہیں اور قومی ادارہ صحت جیسے ادارے موجود ہیں۔
مصطفٰی کمال نے کہا کہ ویکسین کی تیاری یا خرید و فروخت منافع بخش نہیں بلکہ ایک قومی ضرورت ہے اور اسی لیے پاکستان چین سعودی عرب اور انڈونیشیا جیسے ممالک سے تعاون حاصل کر رہا ہے۔











