قومی نصاب تیزی سے بدلتی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی

29

اسلام آباد، 11 فروری (اے پی پی): وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے دو روزہ نیشنل کریکولم سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ علم پر مبنی معیشت ہی پاکستان کا مستقبل ہے اور نصاب تعلیم کسی بھی تعلیمی نظام کا قلب ہوتا ہے، قومی نصاب تیزی سے بدلتی دنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی مسائل پر قومی جذبے کے ساتھ بات کرنی چاہیے کیونکہ تیز رفتار دنیا نے سب کچھ بدل دیا ہے اور جو خود کو بدلنے کا ارادہ نہیں رکھتا اسے کوئی نہیں بدل سکتا۔انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ ترقی ہمیشہ پورے خطے کی سطح پر آتی ہے اور ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہم اپنے خطے میں پیچھے رہتے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے قیام پاکستان کے وقت کے حالات کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مغربی پاکستان کو زرعی زمینیں، بہترین نہری نظام اور قدرتی وسائل میسر تھے جبکہ چین، جاپان، کوریا اور ملائشیا سمیت کئی ممالک شدید غربت یا تباہی کا شکار تھے لیکن آج وہ ترقی یافتہ اقوام میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ترقی یافتہ دنیا کی تعلیمی و معاشی پیش رفت سے سیکھنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ قومی نصاب کی پہلی ترجیح قومی ضروریات، نظریاتی اساس، مذہبی اقدار اور مقامی تقاضے ہونے چاہئیں تاہم بدلتی ہوئی عالمی ضروریات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 25 کروڑ آبادی میں 60 فیصد نوجوان ہیں اس لیے ڈگری کے ساتھ ہنر کی فراہمی ناگزیر ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک میں تقریباً اڑھائی سے تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جبکہ ہر پانچ میں سے چار بچے لرننگ پوورٹی کا شکار ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال کو تعلیمی ایمرجنسی قرار دیتے ہوئے مربوط حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔