اسلام آباد، 23فروری(اے پی پی):بینظیر نشوونما پروگرام کی ریئل ٹائم مانیٹرنگ اور سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کے مقصد سے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے ایک جدید ڈیجیٹل ڈیش بورڈ لانچ کر دیا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی ہدف صحت اور سماجی تحفظ کے نظام میں شفافیت، مؤثر نگرانی اور ڈیٹا کی بنیاد پر بروقت فیصلہ سازی کو فروغ دینا ہے تاکہ ماؤں اور بچوں کے لیے جاری خدمات کی کارکردگی کو بہتر بنایا جا سکے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے اپنے اہم غذائی اقدام، بینظیر نشوونما پروگرام، کے لیے اس ریئل ٹائم ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کا باقاعدہ افتتاح کیا۔ ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کا افتتاح چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے وفاقی وزیر برائے تخفیفِ غربت و سماجی تحفظ سید عمران احمد شاہ، ورلڈ فوڈ پروگرام کی کنٹری ڈائریکٹر کوکو اوشیاما، سینئر سرکاری افسران اور ترقیاتی شراکت دار اداروں کے نمائندگان کے ہمراہ کیا۔
یہ ڈیش بورڈ پروگرام سے متعلق تازہ اور بروقت معلومات فراہم کرتا ہے۔ اس کے ذریعے ماؤں اور بچوں کے لیے جاری منصوبوں کی نگرانی کو مؤثر بنایا جائے گا، پروگرام کی کارکردگی کا بروقت جائزہ لیا جا سکے گا اور وفاقی و صوبائی سطح پر مربوط اور باخبر فیصلے ممکن ہوں گے۔
اس موقع پر سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ ملک کی ترقی اجتماعی کاوشوں سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی توجہ فیلڈ کی سرگرمیوں پر مرکوز ہے کیونکہ عملی سطح پر مسائل کی نشاندہی وہیں سے ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ پروگرام بچوں کی بہتر نشوونما اور لڑکیوں میں غذائی کمی کے تدارک کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ وزارتِ صحت اور شراکت دار اداروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس ڈیش بورڈ کے ذریعے نشوونما پروگرام کے اقدامات کی مؤثر اور بروقت نگرانی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدام نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو مضبوط بناتا ہے اور اس بات کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا کہ سہولیات ان افراد تک پہنچیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ انہوں نے ورلڈ فوڈ پروگرام، یونیسف اور عالمی ادارہ صحت کے تکنیکی تعاون کا بھی اعتراف کیا۔
وفاقی وزیر سید عمران احمد شاہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ غذائی قلت جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے اور انسانی ترقی کے بغیر پائیدار بہتری ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی مستحق ماؤں اور بچوں کو مالی معاونت اور غذائی سہولیات فراہم کر رہا ہے، جس سے اب تک 43 لاکھ سے زائد خواتین اور ان کے بچے مستفید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سماجی تحفظ کو خیرات نہیں بلکہ ایک طویل المدتی سرمایہ کاری سمجھتی ہے اور وزیرِاعظم کے وژن کے مطابق پروگرام میں شفافیت اور مؤثریت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
حالیہ مڈلائن سٹڈی کے نتائج کے مطابق بچوں میں نشوونما کی کمی، پیدائشی کم وزن اور غذائی قلت کے اشاریوں میں نمایاں بہتری سامنے آئی ہے، جبکہ چھ ماہ سے کم عمر بچوں میں اسٹنٹنگ کی شرح میں بیس فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ پیش رفت مضبوط قیادت اور ملک بھر میں قائم سہولت مراکز اور نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹرز میں خدمات انجام دینے والے عملے کی محنت کا نتیجہ ہے۔ نیا ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بی آئی ایس پی کو پروگرام کی کارکردگی کا مؤثر اور بروقت جائزہ لینے میں مدد فراہم کرے گا، جو شفاف اور مربوط سماجی تحفظ کے نظام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔











