اسلام آباد، 25 فروری (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ نے وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے زیر اہتمام منعقدہ پاکستان گورننس فورم سے خطاب کیا اور ‘‘سبسڈی سے سٹریٹجی کی جانب: اصلاحات کے ذریعے مسابقت کی فراہمی’’ کے عنوان سے منعقدہ سیشن کی صدارت کی۔فورم کا افتتاح وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے کیا جنہوں نے گورننس میں بہتری، ساختی اصلاحات اور پائیدار معاشی ترقی کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔
وفاقی وزیر نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان سبسڈی پر مبنی ماڈل سے نکل کر سٹریٹجی اور مسابقت پر مبنی معیشت کی جانب بڑھ رہا ہے جہاں ایکسپورٹ لیڈ گروتھ اور ویلیو ایڈڈ برآمدات کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قلیل المدتی استحکام سے آگے بڑھ کر طویل المدتی اور پائیدار ترقی کے لئے ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریگولیٹری وضاحت، پیشگوئی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کے تحت متعدد جامع اصلاحاتی پیکجز متعارف کرائے جا چکے ہیں جبکہ سینکڑوں اصلاحات مختلف مراحل میں ہیں جن کا مقصد کاروباری رکاوٹوں کا خاتمہ اور قوانین کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔سیشن میں دیگر مقررین میں امبرین وحید، منظور احمد، لوئی ڈین، ربیل وڑائچ اور اینا ٹوم شامل تھے جنہوں نے پاکستان میں کاروباری ماحول اور مسابقت کو بہتر بنانے سے متعلق خیالات کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ایس ایم ایز معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور انہیں آسان قوانین، بہتر رسائی اور برآمدی ویلیو چین میں شمولیت کے مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کاروباری برادری کی سہولت کاری پر زور دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو معاون کردار ادا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے بزنس فیسلی ٹیشن سینٹر ماڈل کو سرمایہ کاروں کے لئے ون ونڈو سہولت قرار دیا جو منظوریوں کے عمل کو مربوط اور تیز بناتا ہے۔انہوں نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزارتِ منصوبہ بندی کی کاوشوں کو سراہا اور ‘‘اڑان پاکستان’’ جیسے اقدامات کو مستقبل کی ترقی اور بہتر گورننس کے لئے اہم قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بورڈ آف انویسٹمنٹ ریگولیٹری اصلاحات، سرمایہ کاری کے فروغ اور ایکسپورٹ لیڈ گروتھ کے ذریعے پاکستان کو پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کے لئے پرعزم ہے۔











