پٹرولیم مصنوعات کے قومی ذخائر اطمینان بخش سطح پر موجود ہیں، مسلسل نگرانی اور محتاط منصوبہ بندی ضروری ہے، وزیر اعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کو بریفنگ

14

اسلام آباد۔5مارچ  (اے پی پی):پٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے وزیرِ اعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کوبتایاگیاہے کہ پٹرولیم مصنوعات کے قومی ذخائر اطمینان بخش سطح پر موجود ہیں اور اہم پٹرولیم مصنوعات کی مناسب مدت تک دستیابی یقینی ہے،  تاہم کمیٹی نے اس بات کا نوٹس لیا کہ عالمی سپلائی چینز اور بحری نقل و حمل کے راستوں کو بڑھتے ہوئے خطرات اور اخراجاتی دبائو کا سامنا ہے  جس کے باعث صورتحال بدستور تغیر پذیر اور غیر یقینی ہے، لہٰذا مسلسل نگرانی اور محتاط منصوبہ بندی ضروری ہے۔ خطے میں ابھرتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر پٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے وزیر اعظم کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو وفاقی وزیر  خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں توانائی کے شعبے میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا اور قومی سطح پر تیاریوں کا اندازہ لگایا گیا، اجلاس میں  توانائی کی علاقائی اور عالمی  بدلتی ہوئی صورتحال پر غور ہوا اورصورتحال کے تناظرمیں ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی پوزیشن کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اراکین کو بریفنگ دی گئی کہ قومی ذخائر اطمینان بخش سطح پر موجود ہیں اور اہم پٹرولیم مصنوعات  کی مناسب مدت تک دستیابی یقینی ہے، لہٰذا اس وقت پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کے حوالے سے فوری طور پر کسی تشویش کی ضرورت نہیں تاہم کمیٹی نے اس بات کا نوٹس لیا کہ عالمی سپلائی چینز اور بحری نقل و حمل کے راستوں کو بڑھتے ہوئے خطرات اور اخراجاتی دبائو کا سامنا ہے، جس کے باعث صورتحال بدستور تغیر پذیر اور غیر یقینی ہے، لہٰذا مسلسل نگرانی اور محتاط منصوبہ بندی ضروری ہے۔

شرکا کو    تیل کی عالمی منڈی کی صورتحال پر بھی جامع بریفنگ دی گئی جس میں عالمی بینچ مارک قیمتوں میں ردوبدل، فریٹ اور انشورنس اخراجات، بحری راستوں کی حرکیات اور اہم گزرگاہوں پر سپلائی کے ممکنہ دبائو جیسے عوامل شامل تھے۔ کمیٹی نے مختلف سپلائی اور قیمتوں کے ممکنہ منظرناموں کا جائزہ لیا تاکہ مختلف ہنگامی حالات میں تیاری کو یقینی بنایا جا سکے اور مقامی توانائی کی رسد میں استحکام برقرار رکھا جا سکے۔ اس تناظر میں کمیٹی نے نوٹ کیا کہ  وار پریمیم  کے رجحانات بالخصوص ایشیائی منڈیوں میں توانائی کے کارگوز کے حصول کے لیے بڑھتی ہوئی مسابقت کی وجہ سے اگر عالمی منڈیوں میں اتار چڑھائو برقرار رہا تو بیرونی کھاتوں پر دبائو بڑھ سکتا ہے،کمیٹی نے رسد کی یقین دہانی کو مضبوط بنانے کے لیے جاری اقدامات کا بھی جائزہ لیا، جن میں سپلائی کے ذرائع اور لاجسٹکس انتظامات کو متنوع بنانا شامل ہے۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ اضافی خام تیل اور ریفائن شدہ پٹرولیم مصنوعات کے حصول کے لیے دوست ممالک اور شراکت دار سپلائرز کے ساتھ سفارتی اور تجارتی سطح پر رابطے جاری ہیں  تاکہ متبادل راستوں اور بندرگاہوں  بشمول ایسے آپشنز جو زیادہ خطرناک سمندری گزرگاہوں سے باہر ہوں کے ذریعے سپلائی کو یقینی بنایا جا سکے ۔ کمیٹی نے شپنگ اور آپریشنل اقدامات پر بھی غور کیا تاکہ تاخیر کو کم کیا جا سکے، جن میں بروقت برتھنگ کی سہولت اور جہاں ممکن ہو قومی شپنگ صلاحیت کے استعمال کو یقینی بنانا شامل ہے۔ منڈی میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے کمیٹی نے ذخیرہ اندوزی، غیر قانونی ذخیرہ اور سپلائی کے رخ موڑنے کی حوصلہ شکنی کے اقدامات پر بھی غور کیا جن میں اوگرا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے صوبائی انتظامیہ کی مربوط کارروائیاں شامل ہوں گی۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ بیرون ملک سمگلنگ کی روک تھام اور ملک کے اندر بلا تعطل ترسیل کو یقینی بنانا اولین عملی ترجیح رہے گی  جبکہ زمینی سطح پر فوری معلومات کے حصول اور خلاف ورزیوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھی جائے گی۔  وزیر خزانہ نے اجلاس کے شرکا  کوبتایا کہ   حکومت کا اولین مقصد ملک بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی کو یقینی بنانا ہے اور تمام پالیسی و انتظامی فیصلوں میں دستیابی ہی بنیادی عنصر ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایک منظم حکمرانی کے طریقہ کار کے تحت صورتحال کو ذمہ داری سے سنبھال رہی ہے جس میں روزانہ کی بنیاد پر نگرانی، مختلف منظرناموں کی منصوبہ بندی اور مربوط فیصلہ سازی شامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں بین الاقوامی قیمتوں میں تبدیلی ناگزیر دبائو پیدا کرے گی، وہاں حکومت پہلے سے طے شدہ اور قابل پیش گوئی طریقہ کار کے تحت ردعمل دے گی تاکہ منڈی میں بگاڑ پیدا نہ ہو اور استحکام برقرار رہے۔ اجلاس میں  ایل این جی اور ایل پی جی کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جس میں سپلائی چین کے خطرات، جہاز رانی کے شیڈولز اور ٹرمینل آپریشنز شامل تھے۔ اراکین نے اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر تعطل برقرار رہتا ہے تو طلب کو موثر طریقے سے منظم کرنے کے لیے ہنگامی آپشنز اختیار کیے جا سکتے ہیں جبکہ ترجیحی شعبوں کا تحفظ اور منڈی میں نظم برقرار رکھا جائے گا۔ وسیع تر تیاری کے منصوبے کے تحت کمیٹی نے ایندھن کے استعمال میں بچت کے مرحلہ وار اقدامات پر بھی غور کیا جو ماضی کی قومی ہنگامی صورتحال کے دوران اختیار کیے گئے ادارہ جاتی طریقہ کار سے اخذ کیے گئے ہیں تاکہ ضرورت پڑنے پر طلب کا بہتر انتظام کیا جا سکے جبکہ عوامی رابطہ کاری کو اس انداز میں ترتیب دیا جائے گا کہ غیر ضروری تشویش پیدا نہ ہو۔ مزید یہ فیصلہ کیا گیا کہ کمیٹی اپنی سفارشات کو کل تک حتمی شکل دے کر وزیر اعظم کو پیش کرے گی جن کے ساتھ ایک جامع عملدرآمد منصوبہ بھی شامل ہوگا جس میں سپلائی کی یقین دہانی، نفاذی اقدامات، قیمتوں اور حکمرانی کے طریقہ کار اور ضرورت کے مطابق بچت کے اقدامات شامل ہوں گے۔ کمیٹی روزانہ کی بنیاد پر اجلاس منعقد کرتی رہے گی تاکہ صورتحال کی نگرانی، ذخائر کی پوزیشن اور سپلائی چین کی نقل و حرکت کا جائزہ لیا جا سکے اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان بروقت عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں وفاقی وزیر  پٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر  قومی غذائی تحفظ و تحقیق  رانا تنویر حسین،  وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر  اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ (ورچوئل شرکت)، وزیر مملکت  خزانہ  بلال اظہر کیانی، گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد، وفاقی سیکریٹریز، تمام صوبوں کے چیف سیکریٹریز اور سینئر سیکریٹریز، نیز متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز اور ریگولیٹری اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔