خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں: سینیٹر بشریٰ انجم بٹ

14

اقوامِ متحدہ، 13 مارچ ( اے پی پی): سینیٹر بشریٰ انجم بٹ نے خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کو موجودہ دور کے سب سے سنگین انسانی حقوق کے مسائل میں سے ایک قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کے لیے مضبوط قوانین، مؤثر اداروں اور سماجی تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاکہ ہر شکل میں ہونے والے تشدد کا خاتمہ کیا جا سکے، بشمول ڈیجیٹل ماحول میں ہونے والی زیادتیوں کے۔

خواتین کے خلاف تشدد کے موضوع پر ایک اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر بشریٰ نے کہا کہ تشدد دنیا بھر میں خواتین کی آواز کو خاموش کرتا ہے، ان کے مواقع کو محدود کرتا ہے اور ان کے وقار کو مجروح کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدسلوکی گھروں، کام کی جگہوں، آن لائن ماحول، تنازعات زدہ علاقوں اور مقبوضہ علاقوں میں جاری ہے۔

انہوں نے اس مسئلے کو ایک نظامی مسئلہ قرار دیا جو عدم احتساب کے باعث برقرار رہتا ہے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ سیاسی عزم اور مربوط اقدامات کے ذریعے اسے روکا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے سینیٹر بشریٰ نے کہا کہ ملک نے اس سلسلے میں وسیع پیمانے پر قانونی اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ انہوں نے غیرت کے نام پر قتل کو جرم قرار دینے، انسدادِ زیادتی کے قوانین کو مضبوط بنانے، جبری شادی اور وراثت سے محرومی کو غیر قانونی قرار دینے اور کام کی جگہوں پر ہراسانی کے خلاف تحفظات کو ادارہ جاتی شکل دینے والی قانون سازی کا حوالہ دیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان نے حال ہی میں ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف ایک جامع حکمتِ عملی بھی تیار کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی ردِعمل کو قومی اور صوبائی کمیشن برائے مقامِ نسواں، خصوصی عدالتوں، کرائسس سینٹرز اور دارالامان جیسے مراکز کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے خواتین پولیس ڈیسک، موبائل پولیسنگ سروسز اور قومی ہیلپ لائنز سمیت اولین سطح پر تحفظ کے نظام کے فروغ کو بھی اجاگر کیا۔

سینیٹر بشریٰ نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی سے لیس سیف سٹی منصوبے اور ڈیجیٹل سیفٹی ایپلی کیشنز خواتین اور لڑکیوں کے لیے نگرانی، رپورٹنگ اور امدادی نظام کو مزید مؤثر بنا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ تشدد خواتین کی سیکھنے، کام کرنے اور قیادت کرنے کی صلاحیت کو محدود کرتا ہے اور انہیں باوقار زندگی گزارنے سے محروم کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ نہ صرف انسانی حقوق کا بحران ہے بلکہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ اور امن کے قیام میں بھی ایک بڑی کمی ہے۔