فیصل آباد، 04 اپریل (اے پی پی): وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی و عوامی امور سینیٹر رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ شدید عالمی توانائی بحران اور خطے میں جاری جنگ کے باوجود پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی حکومت کی مؤثر حکمت عملی کا نتیجہ ہے جبکہ مہنگائی کے اثرات سے عوام کو بچانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر سبسڈی، اخراجات میں کٹوتی اور حالیہ طور پر پیٹرول کی قیمت میں 80 روپے فی لیٹر کمی جیسے بڑے اقدامات کیے گئے ہیں۔اس لئے موجودہ حالات میں حکومت کے خلاف احتجاج کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ پوری قوم اور تمام سیاسی قائدین کوقومی اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔اپنی رہائش گاہ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا بدترین توانائی بحران سے دوچارہے۔انہوں نے کہا کہ پٹرول اور گیس کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں جبکہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند ہونے سے عالمی سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث کئی ممالک میں ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے۔ بعض ممالک میں تو پیٹرول کی دستیابی بھی ممکن نہیں رہی جبکہ ہمسایہ ممالک میں صورتحال اس قدر خراب ہوئی کہ پیٹرول پمپس پر فوج طلب کرنا پڑی، تاہم پاکستان میں ایسی کوئی سنگین صورتحال پیدا نہیں ہوئی۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیراعظم میاں شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی بروقت کاوشوں اور مؤثر حکمت عملی کے باعث ملک میں سپلائی کا نظام متاثر نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے اپنے اخراجات میں نمایاں کمی کی ہے، کابینہ اراکین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی اور 60 فیصد سرکاری گاڑیاں بند کر دی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ابتدائی طور پر تقریباً 129 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کر کے تین ہفتوں تک پیٹرولیم مصنوعات پر بلینکٹ سبسڈی دی تاکہ مہنگائی کے طوفان کو روکا اور عوام کو فوری ریلیف دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ابتدا میں توقع تھی کہ جنگ چند ہفتوں میں ختم ہو جائے گی تاہم صورتحال طول پکڑنے کے بعد حکومت نے پالیسی تبدیل کرتے ہوئے ٹارگٹڈ سبسڈی متعارف کروائی تاکہ مستحق اور کم آمدنی والے طبقات کوترجیحی بنیادوں پر براہ راست ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو ماہانہ 2 ہزار روپے جبکہ چھوٹے کاشتکاروں کو1500 روپے فی ایکڑ ڈیزل کی مد میں فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرحپبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے کو بھی سبسڈی فراہم کی گئی ہے تاکہ کرایوں میں اضافہ کم سے کم رکھا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ عوام کو ریلیف دینے کے لیے مسافر بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ جبکہ دیگر ٹرانسپورٹرز کو 70 سے 80 ہزار روپے تک سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ کرایوں میں اضافہ نہ ہو جبکہ پنجاب اور اسلام آباد میں عوامی ٹرانسپورٹ کو مفت کرنے کا اقدام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کام کر رہی ہے، اس لیے ہر فیصلہ عالمی مالیاتی ادارے کو اعتماد میں لے کر کرنا پڑتا ہے، تاہم جیسے ہی گنجائش ملتی ہے حکومت فوری ریلیف فراہم کرتی ہے، پیٹرول کی قیمت میں حالیہ 80 روپے فی لیٹر کمی اسی کی ایک مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ مستقبل میں موٹر سائیکل استعمال کرنے والے طبقے کو پیٹرول سے نجات دلانے کے لیے بھی کوئی بڑی سکیم متعارف کرائی جائے گی۔ رانا ثناء اللہ نے تمام سیاسی جماعتوں، کاروباری تنظیموں، چیمبرز آف کامرس اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ اس مشکل وقت میں حکومت اور ریاست کا ساتھ دیں اور تعمیری تجاویز پیش کریں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کو آل پارٹیز کانفرنس بلانے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور تمام سیاسی قوتیں مل بیٹھ کراس بحران سے نمٹنے کیلئے قومی مفاد میں تجاویز دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ بحران پاکستان کا پیدا کردہ نہیں بلکہ عالمی جنگی صورتحال کا نتیجہ ہے، اس لیے حکومت کے خلاف احتجاج کا جواز نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج کرنا ہے تو ان قوتوں کے خلاف کیا جائے جنہوں نے یہ جنگ مسلط کی، خصوصاً اسرائیل اور اس کے وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف۔ نہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں جنگ کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں اور لاکھوں افراد اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈال رہے ہیں جبکہ پاکستان وہ ملک بن کر ابھرا ہے جس کی طرف عالمی برادری اس بحران کے حل کے لیے دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت پر اعتماد بڑھ رہا ہے اور ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک پاکستان کے کردار اور اس کی سفارتی کاوشوں پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس بحران کے حل میں اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے اور انشاء اللہ ملک اس مشکل وقت سے سرخرو ہو کر نکلے گا۔ انہوں نے بعض عناصر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ذاتی اور سیاسی مفادات کے لیے ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں، تاہم قوم ایسے عناصر کو مسترد کر دے گی کیونکہ ان کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ریاست کے خلاف سرگرمیاں کریں گے انہیں قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کو بھی سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث ایسے عناصر کو مزید جھٹکے لگ سکتے ہیں، لہٰذا وہ قومی مفاد کو مقدم رکھیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت ہر ممکن اقدام اٹھائے گی تاکہ عام آدمی کو ریلیف فراہم کیا جا سکے اور ملک کو اس عالمی بحران سے نکالا جا سکے جبکہ اس سلسلے میں قوم کو بھی اتحاد، صبر اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔











