سفارتکاری سے استحکام تک پاکستان ایک اہم علاقائی کردار کے طور پر ابھر رہا ہے،وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا فاکس بزنس نیٹ ورک کے پروگرام میں اظہار خیال

6

اسلام آباد، 16 اپریل (اے پی پی ): سوفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سفارتکاری سے استحکام تک پاکستان ایک اہم علاقائی کردار کے طور پر ابھر رہا ہے، امن کی کوششیں اور مالیاتی نظم و ضبط پاکستان کے عالمی وقار کو مضبوط بنارہاہے۔انہوں نے یہ بات  بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے موسم بہارکے   اجلاس 2026 کے موقع پرفاکس بزنس نیٹ ورک کے    پروگرام مارننگ ود ماریا  میں  شرکت  کے موقع پرکی۔ وزیر خزانہ  نے پاکستان کی معاشی صورتحال اور خطے میں جاری سفارتی کوششوں میں  پاکستان کے کلیدی کردار   پر روشنی ڈالی۔یہ انٹرویو میزبان  کی حالیہ گفتگو کے بعد نشر ہوا جس میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  سے بات چیت کی تھی۔ اس گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کے حوالے سے پاکستانی قیادت کی کاوشوں کو سراہا تھا۔ پروگرام کے آغاز میں اسی انٹرویو کا ایک کلپ دکھایا گیا جس کے بعد میزبان نے پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر  خزانہ سے ان کا موقف جاننا چاہا۔  وزیر  خزانہ نے امریکہ، ایران اور عالمی برادری کی جانب سے پاکستان پر کیے گئے اعتماد پر اظہار تشکر  کرتے ہوئے  کہا  کہ پاکستانی قیادت سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانے میں سرگرم عمل ہے، وزیر  اعظم خطے میں مسلسل رابطوں اور سفارتی سرگرمیوں کے ذریعے جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور مزید مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ یہ کوششیں خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے مثبت کردار کی عکاسی کرتی ہیں۔ وزیر خزانہ نے  مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے اثرات کا ذکر کیا اور بتایا کہ پاکستان اس وقت اس کے فوری اثرات جیسے توانائی کی فراہمی، قیمتوں اور لاجسٹکس سے متعلق چیلنجز، کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا  کہ حکومت کی فوری ترجیح سپلائی چین کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے جبکہ مہنگائی، معاشی نمو اور بیرونی شعبے پر دوسرے اور تیسرے درجے کے اثرات کا انحصار تنازع کی مدت اور شدت پر ہوگا۔ وزیر  خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کے بنیادی معاشی اشاریے  مستحکم ہیں اور مالیاتی و بیرونی ذخائر مضبوط ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ترسیلات زر مضبوط رہیں جو مارچ میں تقریباً  3.8 ارب ڈالر  تک پہنچ گئیں جبکہ ملک نے کرنٹ اکاؤنٹ میں سرپلس بھی ریکارڈ کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد کا اظہار کیا کہ موجودہ مالی سال میں پاکستان تقریباً  4 فیصد معاشی شرح نمو  حاصل کر لے گا اور مالیاتی و بیرونی اہداف پورے کرے گا جن میں زرمبادلہ کے ذخائر کو تقریبا تین ماہ کی درآمدات  کے برابر سطح پر برقرار رکھنا شامل ہے۔ مالیاتی نظم و ضبط  کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سینیٹر اورنگزیب نے بتایا کہ پاکستان نے اپنی   1.4 ارب ڈالر کی یورو بانڈ  کی ادائیگی بروقت مکمل کر لی ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے بروقت مالی تعاون کو سراہا جس میں  3 ارب ڈالر کے اضافی ذخائر  اور موجودہ ڈپازٹس میں توسیع شامل ہے جو پاکستان کی بیرونی مالی پوزیشن کو مزید مضبوط بنائے گی۔ وزیر  خزانہ نے مستقبل کی مالی حکمت عملی پر بھی روشنی ڈالی اور بتایا کہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک رسائی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا  کہ پاکستان اپناپہلا پانڈا بانڈ  جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے جبکہ یورو بانڈ اور دیگر تجارتی مالیاتی ذرائع پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ فنڈنگ کے ذرائع کو متنوع بنایا جا سکے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان معاشی استحکام برقرار رکھنے، اپنی بین الاقوامی مالی ذمہ داریوں کو بروقت پورا کرنے اور محتاط معاشی پالیسیوں پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن اور استحکام  کے فروغ میں فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔