واشنگٹن ڈی سی، 16اپریل (اے پی پی): وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر انٹرنیشنل فنڈ فار ایگریکلچرل ڈیولپمنٹ (IFAD) کے صدر الوارو لاریو سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت آئی ایف اے ڈی کا سب سے بڑا بنیادی قرض لینے والا ملک ہے اور ادارے کے پورٹ فولیو میں کسی بھی ایک ملک کے مقابلے میں پاکستان میں سب سے زیادہ منصوبے جاری ہیں۔
سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ زراعت پاکستان کی قومی ترجیح ہے، تاہم ملک ابھی بھی پیداوار، کارکردگی اور ویلیو چین کی ترقی کے حوالے سے اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق نتائج حاصل نہیں کر سکا۔
انہوں نے وزیر اعظم کی زرعی اصلاحات پر توجہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس ضمن میں نئی قیادت لائی جا رہی ہے، نوجوان گریجویٹس کو جدید زرعی تربیت کے لیے بیرون ملک بھیجا جا رہا ہے، جبکہ اہم زرعی شعبوں میں ڈی ریگولیشن کی جا رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ چینی کے شعبے میں مکمل ڈی ریگولیشن کی منظوری دی جا چکی ہے جبکہ گندم کے شعبے میں بھی اصلاحات کی جا رہی ہیں اور وفاقی حکومت بتدریج خریداری کے عمل سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔
انہوں نے چھوٹے کسانوں کے لیے مالی سہولیات بڑھانے اور زرعی ویلیو چین میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا، خاص طور پر فصل کے بعد ہونے والے نقصانات اور ذخیرہ کرنے کی سہولیات کی کمی کے حوالے سے۔
وزیر خزانہ نے عالمی صورتحال کے باعث کھاد کی فراہمی کو درپیش خطرات کی نشاندہی بھی کی اور اس کے زرعی پیداوار پر ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالی۔
سینیٹر اورنگزیب نے آئی ایف اے ڈی کے بدلتے ہوئے کاروباری ماڈل کو سراہا، جس میں روایتی حکومتی قرضوں سے آگے بڑھتے ہوئے نجی شعبے کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شراکت داری کو مزید منظم اور وسیع بنانے کی ضرورت ہے، جس میں ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) اور ورلڈ بینک جیسے اداروں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ منصوبوں کے اثرات کو بڑھایا جا سکے۔
وزیر خزانہ نے مزید تجویز دی کہ آئی ایف اے ڈی اور وزیر اعظم کی زرعی ٹاسک فورس کے درمیان زمینی سطح پر رابطہ بڑھایا جائے تاکہ جاری پروگرامز کو قومی ترجیحات سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔











