اسلام آباد،17اپریل (اے پی پی):وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے حکومتی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ کاروبار میں آسانی، تاجروں اور وسیع کاروباری برادری پر تعمیلی بوجھ میں کمی بھی یقینی بنائی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے آل پاکستان ٹریڈر ایسوسی ایشن کے رہنما کاشف کی قیادت میں ملتان اور فیصل آباد کی کاروباری برادری کے نمائندگان نے ملاقات کے دوران کیا جس میں آئندہ وفاقی بجٹ اور ٹیکس اصلاحات سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ اجلاس تاجروں سے مشاورت کے وسیع سلسلے کا حصہ ہے، جو وزارت خزانہ، ٹیکس پالیسی آفس اور ایف بی آر کی جانب سے جاری ہے۔اس موقع پر وزیر مملکت نے فیصل آباد، ملتان اور بہاولپور کے پاکستان کی برآمدی معیشت اور صنعتی پیداوار میں اہم کردار کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ اس مشاورت کا بنیادی مقصد تاجروں سے عملی اور تعمیری تجاویز حاصل کرنا ہے تاکہ زیادہ مؤثر، منصفانہ اور کاروبار دوست ٹیکس نظام تشکیل دیا جا سکے۔وزیر مملکت نے مزید کہا کہ جاری اور مستقبل کی ٹیکس اصلاحات کو تاجروں اور دیگر متعلقہ حلقوں سے براہِ راست مشاورت کے ذریعے مزید مضبوط بنایا جائے گا، کیونکہ انہیں مارکیٹ کی صورتحال کا براہِ راست تجربہ حاصل ہے۔
انہوں نے تاجروں پر زور دیا کہ وہ ٹیکس نیٹ میں وسعت، تمام تاجروں کی رجسٹریشن اور ٹیکس گوشواروں کی فائلنگ کے لیے عملی تجاویز پیش کریں۔اجلاس کے دوران کاروباری برادری کے نمائندگان نے ٹیکس سے متعلق مختلف امور پر اپنی آراء پیش کیں، جن میں پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) نظام کا نفاذ، دستاویزی تقاضے اور ٹیکس ادائیگی کے موجودہ طریقہ کار کو آسان بنانے کی ضرورت شامل تھی۔ انہوں نے شفافیت، سہولت کاری اور ٹیکس دہندگان و ٹیکس حکام کے درمیان اعتماد کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا۔ کاروباری رہنماؤں نے بجٹ سے قبل حکومتی مشاورتی اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
وزیر مملکت نے شرکاء کو یقین دلایا کہ حکومت کاروباری برادری کے جائز تحفظات کے ازالے کے لیے پرعزم ہے اور ایسے اصلاحاتی اقدامات پر کام کر رہی ہے جن سے انصاف، طریقہ کار کی آسانی اور ٹیکس نظام پر اعتماد کو فروغ ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ تمام مجوزہ اقدامات متعلقہ حلقوں سے قریبی مشاورت کے بعد تیار کیے جائیں گے تاکہ ان پر مؤثر اورسہل عملدرآمد ممکن ہو سکے۔
اجلاس کا اختتام حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان تعمیری مکالمے اور تعاون کو جاری رکھنے کے مشترکہ عزم کے ساتھ ہوا تاکہ پائیدار معاشی ترقی اور بہتر ٹیکس تعمیل کو فروغ دیا جا سکے۔











