لاہور،24 اپریل(اے پی پی): اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر و بیت المال سہیل شوکت بٹ نے حلقہ این اے 120 میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے اپنے رہنماؤں کو اپنے درمیان پا کر خوشی کا اظہار کیا۔ شہریوں نے حلقے میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروانے پر سپیکر قومی اسمبلی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور صوبائی وزیر سہیل شوکت بٹ کا شکریہ ادا کیا۔
افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار ایاز صادق نے کہا کہ موجودہ حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد عوام میں امید کی فضا بحال ہوئی ہے اور پاکستانیوں نے مایوسی کو خیرباد کہہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بہت جلد امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع ہوں گے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے بات چیت ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر ممکن ہو تو فوری طور پر اسلام آباد میں مذاکرات شروع ہونے چاہئیں تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ امن کے قیام میں مثبت کردار ادا کیا ہے اور ماضی میں بھی جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ایران اور پاکستان کے تعلقات کے حوالے سے کہا کہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان کسی قسم کی بداعتمادی نہیں ہے اور ایسے بیانات بے بنیاد ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں، تاہم جو بھی فیصلہ ہوگا وہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہوگا۔ صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر و بیت المال سہیل شوکت بٹ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے حلقے کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت عوامی خدمت کے جذبے کے تحت کام کر رہی ہے جبکہ ماضی میں بعض سیاسی جماعتیں اپنے وعدوں سے انحراف کرتی رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے عوامی فلاح کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں جو ایک فلاحی ریاست کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دھی رانی پروگرام کے تحت ہزاروں مستحق بیٹیوں کی شادیاں ممکن بنائی گئی ہیں جبکہ اسسٹیو ڈیوائسز اور پروستھیٹکس کی فراہمی سے معذور افراد کو خودمختار بنایا جا رہا ہے۔
سہیل شوکت بٹ نے کہا کہ ہمت کارڈ کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد خصوصی افراد کو مالی معاونت فراہم کی جا رہی ہے، جس سے ان کی زندگی میں بہتری آ رہی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت عوامی خدمت اور فلاحی منصوبوں کا دائرہ مزید وسیع کرے گی۔











