مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے لیے عالمی قوانین اور یو این منشور کی پاسداری ناگزیر ہے: سفیر عاصم افتخار احمد

9

اقوامِ متحدہ 28 اپریل(اے پی پی ):اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر کھلے مباحثے میں سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال بدستور نہایت غیر مستحکم ہے، جہاں متعدد اور باہم جڑے ہوئے بحران موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے منشور اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سختی سے پاسداری، نیز تحمل، ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور سفارت کاری کے اصولوں پر عمل، مزید کشیدگی کو روکنے کے لیے ناگزیر ہے۔ اس نکتے کو لائبیریا کے سفیر نے اپنے بیان میں نہایت مؤثر انداز میں اجاگر کیا۔

غزہ میں جنگ بندی نے وقتی ریلیف فراہم کیا، تاہم یہ اب بھی نازک ہے اور خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں 800 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جو نہ صرف بحران کی شدت بلکہ صورتحال کی حساسیت کو بھی واضح کرتا ہے۔ انسانی امداد کی فراہمی دوبارہ شروع تو ہوئی ہے، مگر اسے مختلف رکاوٹوں کا سامنا ہے، جس کے باعث یہ زمینی ضروریات کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ ضروری ہے کہ جنگ بندی کا مکمل احترام کیا جائے، اسے مستحکم بنایا جائے، اور انسانی امداد کی بلا تعطل، مسلسل اور وسیع پیمانے پر فراہمی یقینی بنائی جائے۔

مغربی کنارے میں تیزی سے بگڑتی ہوئی صورتحال بھی نہایت تشویشناک ہے۔ آبادکاروں کا بڑھتا ہوا تشدد، غیر قانونی بستیوں کی مسلسل توسیع، اور اراضی پر قبضے کے لیے منظور کیے جانے والے غیر قانونی قانون سازی کے اقدامات بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں ہیں، جن کا مقصد مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی آبادیاتی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وسیع تر علاقائی کشیدگی بدستور بین الاقوامی امن و سلامتی کے ساتھ ساتھ عالمی معاشی استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال دنیا بھر کے ممالک، بشمول پاکستان، کو منفی طور پر متاثر کر رہی ہے۔ پاکستان خطے کے تمام برادر ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سیاسی آزادی کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتا ہے۔ ہم بین الاقوامی قانون کے عالمی احترام اور تنازعات کے پُرامن حل کے اصول کے حامی ہیں۔

اس نازک موڑ پر تحمل، مکالمہ اور سفارت کاری کو غالب آنا چاہیے۔ پاکستان ایسے سفارتی راستوں کو آگے بڑھانے اور اس بحران کے پُرامن حل کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ مذاکرات اس عزم کا واضح ثبوت ہیں۔ پاکستان خطے میں مکالمے اور استحکام کے فروغ کے لیے کوششوں کی حمایت اور سہولت کاری جاری رکھے گا۔

 مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ مسئلۂ فلسطین کا غیر حل شدہ رہنا اور عرب سرزمینوں پر اسرائیلی قبضے کا تسلسل ہے۔ نہ تو توسیع پسندانہ عزائم، نہ حقوق کا استحصال، اور نہ ہی طاقت کا استعمال—بلکہ قبضے کا خاتمہ، فلسطینی ریاست کا قیام، اور دو ریاستی حل ہی خطے میں سب کے لیے منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کا واحد راستہ ہے۔ پاکستان اس مقصد کی حمایت جاری رکھے گا اور فلسطینی عوام اور ان کے جائز مؤقف کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔