اسلام آباد،1مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ گزشتہ روز ایل این جی گیس موصول ہونے سے بجلی کی پیداوار میں بہتری کے بعداب لوڈ منیجمنٹ کا خاتمہ ہو چکا ہے ۔
جمعہ کو لوڈمنیجمنٹ کے خاتمے کے حوالے سے جاری ویڈیو بیان میں وفاقی وزیر نے کہا کہ آج سے 13 سے 14 دن پہلے عوام کو لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، 13 اور 14 اپریل کو پانچ پانچ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کرنا پڑی ، 17,18,19اپریل کو کوئی لوڈمنیجمنٹ نہیں ہوئی جبکہ 19 اپریل سے 29 اپریل تک لوڈ شیڈنگ کو دو سے ڈھائی گھنٹے تک محدود کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ 15 دن پہلے پریس کانفرنس کر کے وزارت کا موقف سامنے رکھا اور بتایا کہ لوڈ شیڈنگ ہماری کسی کوتاہی یا سسٹم کے نان فنکشنل یا پیداواری صلاحیت کے نہ ہونے کی وجہ سے نہیں ہے ، اگر ہم ڈیزل یا فرنس ائل سے یہ بجلی پیدا کرتے ہیں اور لوڈ شیڈنگ کی تمام ضروریات کو ختم کرتے ہیں تو یہ بجلی بہت مہنگی ہوتی جس سے صارفین پر بوجھ پڑ سکتا تھا ۔
اویس لغاری نے کہا کہ ڈیمز کے پانی کو ریلیز کرنا ارسا کی ضرورت ہے اور یہ صوبوں کی ضروریات پر منحصر ہے ،الحمداللّہ اب پن بجلی سے بجلی کی پیداوار چھ ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکی ہے جو اس سے پہلے ایک ہزار میگا واٹ تک ہوا کرتی تھی ۔
انہوں نے کہا کہ دعا ہے کہ ٹرانسمیشن لائنز پر قسم افت اور خرابی سے محفوظ رہی، اس موقع پر ہمیں مہنگی گیس خریدنی پڑی کیونکہ قطری گیس نہیں ارہی تھی ، جس طرح پہلے لوڈ شیڈنگ نہیں ہوتی تھی امید ہے اب بھی ایسا نہیں ہوگا ۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے غلط فہمیاں پھیلائی جاتی ہیں کہ ہمارے پاس بجلی کی پیداواری صلاحیت 46 ہزار میگا واٹ ہے ، یہ تاثر بالکل غلط ہے بجلی کی پیداوار 46 ہزار میگا واٹ نہیں بلکہ 32 ہزار میگا واٹ ہے ، سال کے مختلف دورانیوں میں بجلی کی پیداواری صلاحیت میں اتار چڑھاؤ اتا رہتا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ الحمداللّہ لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کرنے میں اللّہ تعالی نے ہمیں سرخرو کیا ہے ،لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے لیے ہمیں مجبورا فرنس اور ایندھن سے چلنے والے پلانٹس کو بھی چلانا پڑا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ صارفین کو مہنگی بجلی سے محفوظ رکھا جائے ۔











