اقوام متحدہ، 6 مئی ) اے پی پی): پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2286 کی منظوری کے ایک عشرے بعد بھی تنازعات کے دوران طبی سہولیات پر حملے تشویشناک حد تک جاری ہیں، اور ہسپتالوں، طبی عملے اور مریضوں کے تحفظ کے لیے مؤثر عملدرآمد، احتساب اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایریا فارمولا اجلاس بعنوان “قرارداد 2286 کے دس سال: بدلتے خطرات کے تناظر میں تنازعات کے دوران طبی نگہداشت کا تحفظ” سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ قرارداد 2286 میں دہرایا گیا بنیادی اصول آج بھی واضح ہے: ہسپتال علاج کے مراکز رہنے چاہییں، انہیں نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے؛ ڈاکٹرز اور نرسز کو اپنی جان خطرے میں ڈالے بغیر زندگیاں بچانے کے قابل ہونا چاہیے؛ جبکہ زخمیوں اور بیماروں کو دانستہ حملوں سے محفوظ رکھا جانا چاہیے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے نظام کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ دس سال بعد بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنازعات اور غیر ملکی قبضے کی صورتحال میں بار بار ہونے والے حملے صحت کے نظام کو تباہی کے دہانے تک پہنچا سکتے ہیں۔
انہوں نے اس حوالے سے پاکستان کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان، نائجیریا، اسپین اور یوراگوئے کے ساتھ مل کر بین الاقوامی کمیٹی برائے صلیبِ احمر (آئی سی آر سی) کے اس عالمی اقدام کے ورک اسٹریم فائیو کی مشترکہ صدارت کر رہا ہے، جس کا مقصد “مسلح تنازعات میں اسپتالوں کے مؤثر تحفظ” کے لیے بین الاقوامی انسانی قانون سے متعلق سیاسی عزم کو متحرک کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون سے پاکستان کے عزم اور اس مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ طبی سہولیات کے تحفظ کے لیے صرف قانونی توثیق نہیں بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
انھوں نے ان ترجیحات پر روشنی ڈالی کہ تمام فریقین پر لازم ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کریں اور اس پر عملدرآمد یقینی بنائیں، بشمول طبی عملے، انسانی ہمدردی کے کارکنوں، طبی نقل و حمل، آلات، اسپتالوں اور دیگر طبی سہولیات کے تحفظ سے متعلق ذمہ داریوں کے۔ انہوں نے انسانی ہمدردی کے اصولوں اور ان کے عملی نفاذ کے درمیان موجود خلا کو ختم کرنے کے لیے خلاف ورزیوں کی روک تھام پر زور دیا۔ انہوں نے قواعدِ اشتباك، محفوظ رسائی کے طریقہ کار، خطرات کے جائزے، آپریشنل منصوبہ بندی اور واقعات کے بعد جائزہ لینے کی اہمیت اجاگر کی۔
اپنے خطاب کے اختتام پرصائمہ سلیم نے کہا کہ طبی نگہداشت کا تحفظ ایک قانونی ذمہ داری، انسانی ضرورت اور مشترکہ انسانیت کا امتحان ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب زخمی افراد علاج کے لیے کسی دروازے پر پہنچیں تو عالمی برادری کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ دروازہ انہیں تحفظ فراہم کرے، خطرے میں نہ ڈالے۔











