اسلام آباد،10مئی (اے پی پی):کل جماعتی حریت کانفرنس کے کنوینر غلام محمد صفی کی قیادت میں’’معرکۂ حق‘‘اور ’’آپریشن بنیان المرصوص‘‘ کی تاریخی کامیابیوں کے تناظر میں افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ایک شاندار، پروقار اور بھرپور تقریب کا انعقاد کیا گیاجس میں دفاعی، اسٹریٹجک اور سکیورٹی تجزیہ کاروں، حریت رہنماؤں، دانشوروں، سیاسی و سماجی شخصیات، نوجوانوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
تقریب میں پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جرأت، قربانیوں اور قومی سلامتی کے لیے ان کی بے مثال خدمات کو زبردست الفاظ میں سراہا گیا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی ریٹائرڈ میجر جنرل سمریز سالک تھے جبکہ دیگر مہمانوں میں ڈاکٹر سید محمد علی اور ڈاکٹر ختم عباس شامل تھے۔ مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ افواجِ پاکستان نے معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کے دوران جس حکمت، جرأت، عسکری مہارت اور غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا، اُس نے نہ صرف دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا بلکہ پوری دنیا پر یہ واضح کردیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی وقار کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختصر وقت میں پاکستان کے طوفانی اور فیصلہ کن جوابی اقدامات نے دشمن کو بوکھلاہٹ کا شکار کردیا اور بھارت کو ناکوں چنے چبوانے پر مجبور کر دیا جبکہ عالمی سطح پر بھی طاقت کے توازن، عسکری حکمتِ عملی اور جنوبی ایشیا کی صورتحال سے متعلق بیانیہ تبدیل ہو کر رہ گیا۔
ریٹائرڈ میجر جنرل سمریز سالک نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت نے پاکستان میں سیاسی افراتفری اور کمزور معاشی صورتحال کو دیکھتے ہوئے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو جواز بنا کر جارحیت کی راہ اختیار کی تھی، مگر پاکستان نے نہ صرف عسکری محاذ پر بھارت کو عبرتناک شکست دی بلکہ تین رافیل طیاروں سمیت متعدد جنگی جہاز گرا کر بھارت کے غرور کو خاک میں ملا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صرف دفاعی میدان میں ہی نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی محاذ پر بھی بھرپور کامیابی حاصل کی، جہاں جواں سال قومی رہنما بلاول بھٹو زرداری نے مؤثر سفارت کاری اور مدلل مؤقف کے ذریعے بھارت کے بیانیے کو عالمی سطح پر ناکام بنا کر انہیں چاروں شانے چت کر دیا۔انہوں نے کہا کہ مسئلۂ کشمیر کو محض بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک زمینی یا سرحدی تنازع کے طور پر پیش کرنا حقائق کے منافی ہے۔ ہمیں دنیا کو یہ باور کرانا ہوگا کہ مسئلۂ کشمیر دراصل سوا کروڑ کشمیری عوام کے پیدائشی حقِ خودارادیت، اُن کی زندگی، وقار، آزادی اور مستقبل کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اپنے بنیادی اور مسلمہ حق کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہے ہیں، لہٰذا عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
ڈاکٹر سید محمد علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص دراصل کشمیر کی خاطر لڑی گئی جنگ تھی کیونکہ پاکستان کا بنیادی مقصد ہی کشمیری عوام کی آزادی، وقار اور حقِ خودارادیت کا تحفظ ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف چار گھنٹوں کے اندر بھارت کو جس تباہی اور عسکری نقصان کا سامنا کرنا پڑا، اُس کی مثال 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں بھی نہیں ملتی۔ پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کے اہم اور اعلان شدہ ایئر بیسز کو تباہ کرکے بھارتی عسکری غرور کو خاک میں ملا دیا اور دنیا پر واضح کردیا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتیں ناقابلِ تسخیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے نہ صرف عسکری میدان میں فیصلہ کن برتری حاصل کی بلکہ سفارتی محاذ پر بھی تاریخی کامیابیاں سمیٹیں۔ پاکستانی سفارتی وفد نے بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں عالمی سطح پر بھارت کے مؤقف کو مؤثر انداز میں بے نقاب کیا اور بھارتی سیاسی و سفارتی حلقوں کو واضح شکست سے دوچار کیا۔ ڈاکٹر سید محمد علی نے کہا کہ پاکستان کے بھرپور اور مؤثر جوابی اقدامات نے بھارت کو ایسی عبرتناک شکست دی کہ اُسے جنگ بندی کی درخواست کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ جنگ بندی اور خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب مسئلۂ کشمیر پر بامعنی مذاکرات کیے جائیں اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دیا جائے۔کنوینر غلام محمد صفی نے اپنے صدارتی خطاب میں معرکۂ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں تاریخی کامیابی پر افواجِ پاکستان کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کامیاب آپریشن سے نہ صرف کشمیری عوام بلکہ پوری امتِ مسلمہ کا سر فخر سے بلند ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بے لوث سفارتی، سیاسی اور اخلاقی کوششوں، اور ہر محاذ پر مسئلۂ کشمیر کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کی وجہ سے انہیں یقین ہے کہ مسئلۂ کشمیر کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہوکر ایک دن مملکتِ خداداد پاکستان کا جزوِ لاینفک بن جائے گا۔غلام محمد صفی نے تقریب میں شرکت کرنے والے تمام معزز مہمانوں، مقررین، شرکاء، میڈیا نمائندگان اور نوجوانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام پاکستان اور افواجِ پاکستان کے ساتھ اپنے تاریخی، نظریاتی اور قلبی رشتے کو ہر قیمت پر برقرار رکھیں گے۔مقررین نے کہا کہ افواجِ پاکستان صرف ایک عسکری قوت نہیں بلکہ قوم کی عزت، وقار، طاقت اور اعتماد کی علامت ہیں۔ پاک فوج، پاک فضائیہ اور پاک بحریہ نے جس اتحاد، مہارت اور پیشہ ورانہ ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا، وہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن یہ سمجھتا تھا کہ دھمکیوں، اشتعال انگیزی اور جارحیت کے ذریعے پاکستان کو دباؤ میں لایا جاسکتا ہے، مگر افواجِ پاکستان نے اپنی شاندار حکمتِ عملی، غیر معمولی صلاحیتوں اور فولادی عزم سے یہ ثابت کردیا کہ پاکستان ناقابلِ تسخیر ہے اور اس کی دفاعی صلاحیتیں ہر چیلنج سے نمٹنے کی مکمل اہلیت رکھتی ہیں۔ تقریب کے شرکاء نے کہا کہ پاکستان کی بہادر افواج نے ہمیشہ نہ صرف سرحدوں کا دفاع کیا بلکہ ہر مشکل گھڑی میں قوم کی امیدوں، امنگوں اور اعتماد پر پورا اُترتے ہوئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ پوری پاکستانی قوم، بالخصوص کشمیری عوام، افواجِ پاکستان کی قربانیوں، بہادری اور جرأت کو سلام پیش کرتے ہیں۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام اپنے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں پاکستان اور افواجِ پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہیں اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔مقررین نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مسئلۂ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کروانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جارحانہ پالیسیوں، خطے میں جنگی جنون اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے پورے خطے کے امن کو خطرات سے دوچار کر رکھا ہے، تاہم پاکستان اور اس کی مسلح افواج نے ہمیشہ ایک ذمہ دار ریاست ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے امن، استحکام اور توازن کے قیام کے لیے مثبت کردار ادا کیا ہے۔ تقریب کے اختتام پر افواجِ پاکستان کے شہداء، غازیوں اور وطن کے دفاع کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر سپوتوں کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قوم اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ تقریب کے آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ امن، استحکام، اتحاد اور فتح و سربلندی عطا فرمائے اور افواجِ پاکستان کو ہر میدان میں کامیابیوں سے ہمکنار فرمائے۔











