لاہور، 12 مئی(اے پی پی): صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین کی زیر صدارت پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کا 135واں بورڈ اجلاس منعقد ہوا۔پیسک ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں 8 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا ۔ایم ڈی پیسک مبین الہٰی نے ایجنڈا آئٹمز بارے تفصیلی بریفننگ دی۔ بورڈ نے 3. 1 ارب روپے کے حکومتی قرضے کی واپس ادائیگی کی منظوری دی۔ بورڈ نے 20 سمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں سروے کے نتیجے میں نکلنے والے 403 اضافی پلاٹس فروخت کرنے کی منظوری دی۔ ان پلاٹوں کی فروخت سے 11 ارب 22 کروڑ روپے حاصل ہونے کا تخمینہ ہے جس سے انڈومنٹ فنڈ بنایا جائے گا۔بورڈ نے پیسک کی ناکارہ پراپرٹیز کی نیلامی کے شیڈول کی بھی منظوری دی۔سمال انڈسٹریل اسٹیٹ منڈی بہاوالدین کا ریوائز پی سی ون بھی منظور کیا گیا۔پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کیلئے فنانشیل ایڈوائزری سروسز کے حصول کی بھی منظوری دی گئی۔پیسک فنانشیل ایڈوائزر کی تقرری عمل میں لائی جائے گی۔ اجلاس میں پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن ایکٹ 1973میں ترامیم کی تجاویز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ترمیمی بل کی کابینہ اور پنجاب اسمبلی سے منظوری کے بعد پنجاب سمال انڈسٹریز کارپوریشن کے دائرہ کار میں وسعت آئے گی۔پنجاب کی 23 سمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں عدم دستیاب سہولیات کی فراہمی کے پروگرام کی مانیٹرنگ کیلئے موثر مانیٹرنگ کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس کو سمال انڈسٹریل اسٹیٹ قائد آباد کے قیام کے سول ورک پر پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے کہا کہ پنجاب کی 23 سمال انڈسٹریل اسٹیٹس میں عدم دستیاب سہولیات کی فراہمی کا بڑا پروگرام شروع کیا گیا ہے ،وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایت پر پنجاب میں کاروباری سرگرمیوں کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا گیا ہے صنعتی مراکز کی 100فیصد کالونائزیشن حکومت کی پالیسی ہے۔جتنے کارخانے لگیں گے روزگار کے اتنے ہی مواقع بڑھیں گے۔قائد آباد میں نئی انڈسٹریل اسٹیٹ بن رہی ہے جہاں پنک سالٹ کی ویلیو ایڈیشن کے کارخانے لگیں گے۔ صوبائی وزیر کی پیسک کے ریجنل ڈائریکٹرز کو پوری طرح متحرک کرنے اور سمال انڈسٹریل اسٹیٹس کے ماسٹر پلانز کو آپ گریڈ کرنے کی بھی ہدایت دی۔تمام سمال انڈسٹریل اسٹیٹس کا ٹوپو گرافک سروے جاری ہے ،ایم ڈی پیسک مبین الہٰی پیسک کی گاڑیوں کو الیکٹرک وہیکلز میں تبدیل کرنے کے پروگرام پر بھی کام کیا جارہا ہے ،ایم ڈی پیسک سیکرٹری انڈسٹریز عمر مسعود ، پیسک کے ڈائریکٹرز اور بورڈ ممبران نے اجلاس میں شرکت کی ۔











