نیویارک، 17 مئی ( اے پی پی): اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ اقوام کے حقیقی کردار کا اندازہ بحران کے لمحات میں ہوتا ہے۔ معرکۂ حق نے پاکستانی قوم کے اس اجتماعی عزم کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا، جس کے تحت پوری قوم بھارتی جارحیت کے خلاف اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔
انہوں نے معرکۂ حق کے دوران پاکستانی عوام، سیاسی و عسکری قیادت اور مسلح افواج کے غیر متزلزل اتحاد اور عزم کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔
بروکلین میں معرکۂ حق کی یاد میں منعقدہ ایک کمیونٹی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان کی عسکری کامیابی کو مؤثر حکمتِ عملی اور اصولی سفارت کاری کے ذریعے ایک بڑی سیاسی اور سفارتی کامیابی میں تبدیل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے حقائق پر مبنی مؤقف پیش کیا، جسے عالمی دارالحکومتوں اور بین الاقوامی میڈیا میں پذیرائی حاصل ہوئی۔
یہ تقریب ممتاز کمیونٹی رہنما ملک خالد اعوان کی جانب سے منعقد کی گئی تھی، جس میں پاکستانی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد نے شرکت کی۔ پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے سفیر عاصم نے وزیرِاعظم کی ہدایت پربلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں اقوام متحدہ آنے والے اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ وفد نے اقوام متحدہ کی قیادت، بشمول سیکریٹری جنرل، جنرل اسمبلی کے صدر، سلامتی کونسل کے صدر، اسلامی تعاون تنظیم کے نمائندوں اور سلامتی کونسل کے رکن ممالک کے سفیروں سے تفصیلی ملاقاتیں کیں اور بھارت کے ساتھ تنازع کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس، اسی دوران نیویارک میں موجود بھارتی وفد نے اقوام متحدہ میں مؤثر سفارتی رابطوں سے گریز کیا۔سفیر عاصم افتخار احمد نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی اور تنازع کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ امن، مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کی۔ انہوں نے جولائی میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پاکستان کی صدارت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایسے وقت میں “تنازعات کے پُرامن حل” سے متعلق قرارداد کی منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا جب سلامتی کونسل کئی اہم عالمی معاملات پر شدید تقسیم کا شکار تھی۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ پاکستان پُرامن بقائے باہمی اور مذاکراتی حل پر یقین رکھتا ہے، تاہم ملک اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت پاکستان کے خلاف سازشیں جاری رکھے ہوئے ہے اور خطے کو درپیش خطرات اب بھی موجود ہیں۔
سفیر عاصم نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدے سمیت پاکستان کی بین الاقوامی شراکت داریوں کا فروغ، تنازع کے بعد پاکستان کی سفارتی کامیابی اور بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کا مظہر ہے۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے فعال کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلسل مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین کے عوام کی بھرپور حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان ان آٹھ ممالک میں شامل تھا جنہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر غزہ میں جنگ بندی کے حصول کے لیے کام کیا۔
اس موقع پر اپنے خطاب میں سینیٹر رانا محمود الحسن نے معرکۂ حق کے دوران پاکستان کی مسلح افواج، سیاسی قیادت اور سفارتی عملے کے مثالی کردار کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام کی تاریخ میں معرکۂ حق جیسے لمحات کم ہی آتے ہیں، جو ان کی تقدیر بدل دیتے ہیں اور اقوامِ عالم میں ان کے مقام کا تعین کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس نازک مرحلے پر پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت عوام کی توقعات پر پوری اتری اور پوری قوم کو اپنے اتحاد، جرات اور حکمتِ عملی پر فخر کرنے کا موقع ملا۔
پاکستانی سفارت کاروں کو خصوصی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ پاکستانی سفارت کاروں، بالخصوص سفیر عاصم افتخار احمد، نے عالمی سطح پر بیانیے اور نظریاتی محاذ پر کامیابی حاصل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بھارت کے ساتھ تنازع کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے مؤقف کو مؤثر انداز میں اجاگر کرنے پر سفیر عاصم کی قیادت کو سراہا۔
سینیٹر نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کامیابی دراصل سیاسی قیادت، سفارت کاروں، مسلح افواج، میڈیا اور عوام کی مشترکہ قومی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔علاقائی سلامتی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حالیہ تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ مضبوط دفاعی صلاحیت سے محروم ممالک بیرونی جارحیت اور دشمن قوتوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی تیاری اور قومی عزم نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع کا حوالہ دیتے ہوئے سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا میں عدم استحکام اور کشیدگی کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا، جو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت تحریک طالبان پاکستان اور بلوچ لبریشن آرمی جیسی تنظیموں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر بھارت کی ان سازشوں کو بے نقاب کرنے اور سفارتی، سیاسی، اطلاعاتی اور عسکری ہر محاذ پر پاکستان کے دفاع کی ضرورت پر زور دیا۔
تقریب سے ڈاکٹر غلام مجتبیٰ، ملک خالد اعوان، عطیہ شیراز، جاوید چوہدری، روحیل ڈار، میاں عظیم، صفدر گجر، نگہت فاروق، عظریٰ ڈار اور اقبال کھوکھر سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔











