اسلام آباد۔19مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن اورنگزیب خان کھچی نے کہا ہے کہ پاکستان دنیا کی اہم ترین بدھ تہذیبی مراکز میں سے ایک کے امین ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے اور گندھارا تہذیب کے عظیم ورثے کے تحفظ، ترویج اور آئندہ نسلوں تک منتقلی کے لیے پُرعزم ہے۔ گندھارا تہذیب اور گوتم بدھ کی تعلیمات انسانیت کو برداشت، بقائے باہمی، مکالمے اور امن کا پیغام دیتی ہیں، قدیم گندھارا تہذیب، جس کے آثار ٹیکسلا، سوات، پشاور، مردان اور چارسدہ میں پھیلے ہوئے ہیں، نے بدھ تعلیمات، فن، تعمیرات اور فلسفے کے فروغ میں تاریخی کردار ادا کیا، وہ منگل کوقائداعظم یونیورسٹی کے ٹیکسلا انسٹی ٹیوٹ آف آرکیالوجی اینڈ سولائزیشنز میں منعقدہ “پاکستان کے بدھ ورثے پر تیسری بین الاقوامی کانفرنس” کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کر رہے تھے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ کانفرنس محض ایک علمی فورم نہیں بلکہ بین الثقافتی مکالمے، علمی تعاون اور عالمی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے قائداعظم یونیورسٹی کے ہیومنسٹک بدھ ازم ریسرچ سینٹر اور تمام شراکت دار اداروں کو گندھارا تہذیب اور پاکستان کے بدھ ورثے کے تحفظ، تحقیق اور فروغ کے لیے اس اہم اجتماع کے انعقاد پر سراہا۔انہوں نے کہا کہ قدیم گندھارا تہذیب، جس کے آثار ٹیکسلا، سوات، پشاور، مردان اور چارسدہ میں پھیلے ہوئے ہیں، نے بدھ تعلیمات، فن، تعمیرات اور فلسفے کے فروغ میں تاریخی کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گندھارا تہذیب جنوبی ایشیائی اور یونانی روایات کا ایک شاندار امتزاج تھی اور یہ انسانیت کے مشترکہ ثقافتی ورثے کا بیش بہا حصہ ہے۔وفاقی وزیر نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں اہم بدھ آثارِ قدیمہ کے مقامات کی بحالی اور تحفظ، تاریخی مقامات کی بہتر نگرانی و انتظام، آثارِ قدیمہ کی تحقیق اور بین الاقوامی علمی تعاون کے فروغ، تاریخی نوادرات کی ڈیجیٹل دستاویز سازی، مذہبی سیاحت کے فروغ، اور گندھارا ورثے سے متعلق عالمی آگاہی بڑھانے کے لیے کانفرنسوں اور ثقافتی تبادلوں کے انعقاد جیسے نمایاں اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی تنظیموں، جامعات، ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور ثقافتی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنا رہا ہے تاکہ اس قیمتی ورثے کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کا مقصد بدھ ورثے پر تحقیق کو فروغ دینا، علمی مکالمے کی حوصلہ افزائی، آثارِ قدیمہ اور تحفظ کے شعبوں میں عالمی تعاون کو مضبوط کرنا اور بدھ تہذیب کے مرکز کے طور پر پاکستان کے تاریخی کردار کو اجاگر کرنا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایسے وقت میں جب دنیا تقسیم اور تنازعات کا شکار ہے، گندھارا تہذیب اور گوتم بدھ کی تعلیمات انسانیت کو برداشت، بقائے باہمی، مکالمے اور امن کا پیغام دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدار علاقائی ہم آہنگی اور ثقافتی تعاون سے متعلق پاکستان کے وژن سے مکمل ہم آہنگ ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ثقافتی تنوع اس کی بڑی طاقتوں میں سے ایک ہے اور بدھ ورثے کا تحفظ مذہبی تنوع، ثقافتی کثرتیت اور مشترکہ انسانی تاریخ کے احترام کا مظہر ہے۔ وفاقی وزیر نے آثارِ قدیمہ کے ماہرین، تحفظِ آثار کے ماہرین، جامعات، مقامی کمیونٹیز اور ثقافتی اداروں کی خدمات کو بھی سراہا جو ان قیمتی خزانوں کے تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ کانفرنس گندھارا تہذیب کے تحفظ، فروغ اور عالمی سطح پر شناخت کے لیے مؤثر سفارشات پیش کرے گی۔ وفاقی وزیر نے بین الاقوامی مندوبین کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس علمی تعاون، ثقافتی دوستی اور اقوام کے درمیان باہمی احترام کو مزید فروغ دے گی۔ واضح رہے کہ پانچ روزہ بین الاقوامی کانفرنس 23 مئی 2026 تک جاری رہے گی جس کا اہتمام قائداعظم یونیورسٹی کے ہیومنسٹک بدھ ازم ریسرچ سینٹر نے قومی و بین الاقوامی شراکت دار اداروں کے تعاون سے کیا ہے۔ ان اداروں میں سلک روڈ سینٹر، یونیورسٹی ملایا کا ہیومنسٹک بدھ ازم ریسرچ سینٹر، فو گوانگ شان ایجوکیشن سینٹر ملائیشیا، پاکستان ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن، اور خیبر پختونخوا کے محکمہ آثارِ قدیمہ و عجائب گھر شامل ہیں۔کانفرنس میں پاکستان اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے اسکالرز، مذہبی رہنما، ماہرینِ تحفظِ آثار، بدھ ممالک کے سفرا، راہب اور نوجوان نمائندگان شریک ہیں، جو پاکستان کے تیسری صدی قبل مسیح سے تعلق رکھنے والے بدھ اور گندھارا ورثے پر مکالمے اور علمی تبادلے کو فروغ دے رہے ہیں۔ کانفرنس میں منیجنگ ڈائریکٹر اے پی پی عاصم کھچی اور ایکٹنگ وائس چانسلر قائداعظم یونیورسٹی ڈاکٹر ظفر نواز جسپال بھی شریک تھے۔ شرکا گندھارا خطے کے اہم بدھ تاریخی مقامات کا دورہ بھی کریں گے۔منتظمین نے 2022 اور 2024 میں منعقدہ سابقہ کانفرنسوں کے لیے قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن کے مسلسل تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ وزارت کی حوصلہ افزائی نے پاکستان کے ثقافتی اور مذہبی ورثے کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔اس سے پہلے وفاقی وزیر نے قائد اعظم یونیورسٹی میں نئے کھلنے والے گندھارا سنٹر اور لائیبریری کا بھی دورہ کیا۔ انہوں نے لائیبریری میں بدھ ازم پر کتابوں کا بھی جائزہ لیا اور یونیورسٹی کے اس اقدام کو سراہا۔











