سلامتی کونسل میں پاکستان کا یوکرین تنازع کی بڑھتی ہوئی شدت پر شدید تشویش کا اظہار

13

اقوام متحدہ، 22 مئی ( اے پی پی): پاکستان نے یوکرین میں جاری تنازع کے آغاز سے اب تک عام شہریوں، بشمول بچوں، اور شہری بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے غیر متناسب نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حالیہ دنوں میں لڑائی کی شدت میں اضافے اور اس کے نتیجے میں انسانی صورتحال کے مزید خراب ہونے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

روس کی درخواست پر طلب کیے گئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف تنازع کو مزید ہوا دیتے ہیں بلکہ باہمی اعتماد کو کمزور اور امن کی کسی بھی بامعنی کوشش کو متاثر کرتے ہیں۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون، بالخصوص بین الاقوامی انسانی قانون  سے متعلق پاکستان کا اصولی مؤقف واضح اور مستقل رہا ہے۔ مسلح تنازعات کی صورتحال میں شہریوں اور غیر جنگجو افراد کو کسی بھی صورت میں حملوں کا نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کا تحفظ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ایک بنیادی قانونی ذمہ داری ہے، جس پر تمام فریقین کو ہر حالت میں مکمل اور مسلسل عمل کرنا لازمی ہے۔

سفیر عاصم نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ اس تنازع کے پرامن حل کے لیے مکالمے اور سفارت کاری کی حمایت کرتا آیا ہے۔ ان کے مطابق دیرپا امن کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں سے وابستگی اور تمام فریقین کے جائز سلامتی خدشات اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں کے مطابق باہمی قابلِ قبول حل تلاش کرنے پر توجہ ضروری ہے۔

انہوں نے اس تناظر میں امید ظاہر کی کہ فریقین جلد از جلد امریکہ کی سہولت کاری سے جاری مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کریں گے۔

مستقل مندوب نے کہا کہ پاکستان اس تنازع کے جامع، پائیدار اور پرامن حل کے لیے تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

انہوں نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ  باہمی طور پر قابلِ قبول حل تک پہنچنے میں مزید تاخیر متاثرہ آبادیوں کی تکلیف میں اضافہ کرے گی، جو ایک افسوسناک نتیجہ ہوگا جس سے جنگ بندی اور مذاکراتی میز پر واپسی کے ذریعے بچا جا سکتا ہے۔