وزیراعظم شہباز شریف کا علی بابا ہیڈکوارٹرز کا دورہ، پاکستان اور علی بابا کے درمیان جامع اسٹریٹجک فریم ورک معاہدے پر دستخط

5

ہانگژو، 24 مئی  (اے پی پی): وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ہانگژو میں علی بابا گروپ کے ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا، جہاں چیئرمین جوو سائی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

ملاقات کے دوران چیئرمین جوو سائی نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے کردار اور ڈیجیٹل تبدیلی، تکنیکی جدت اور سرمایہ کاری کے لیے حکومتی عزم کو سراہا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس، مصنوعی ذہانت، فِن ٹیک، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدت پر مبنی کاروباری سرگرمیوں میں پاکستان کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے نوجوانوں کو ٹیکنالوجی، ہنر اور عالمی شراکت داریوں کے ذریعے بااختیار بنانے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا۔

اس موقع پر وزیراعظم اور چیئرمین جوو سائی نے علی بابا گروپ اور پاکستان کے سرکاری و نجی شعبوں کے درمیان متعدد اسٹریٹجک مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط و تبادلے کی تقریب میں شرکت کی۔ وزیراعظم کی خصوصی کاوش پر علی بابا گروپ اور حکومتِ پاکستان کے درمیان ایک جامع اسٹریٹجک فریم ورک معاہدے پر بھی اتفاق ہوا۔

یہ فریم ورک مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ سلوشنز، ڈیجیٹل تجارت، ایس ایم ایز کے فروغ، فِن ٹیک اور صحت کے شعبے میں جدت کے ذریعے پاکستان کی ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

معاہدوں کی تفصیلات:

– مصنوعی ذہانت اور کلاؤڈ سلوشنز: اگنائٹ اور علی بابا کلاؤڈ اردو اور علاقائی زبانوں کے لیے مقامی AI ماڈلز تیار کریں گے، 5 لاکھ افراد کے لیے مہارتوں کے فروغ کا پروگرام شروع ہوگا، اور مشترکہ AI ہیکاتھونز منعقد کیے جائیں گے۔

– صحت کی ٹیکنالوجی: ڈی اے ایم او اکیڈمی اور Sky47 پاکستانی شہروں میں AI سے چلنے والا بیماریوں کی تشخیص کا نظام متعارف کروائیں گے۔ ڈی اے ایم او اور اگنائٹ جامعات میں ایمباڈیڈ انٹیلیجنس کی استعداد کار بڑھائیں گے۔

– ایس ایم ایز اور ای کامرس: علی بابا اور سمیڈا 2 ہزار پاکستانی چھوٹے اور درمیانے کاروباروں کو “پاکستان پویلین” میں شامل کریں گے تاکہ انہیں AI ٹولز اور عالمی منڈیوں تک رسائی ملے۔

– مالی شمولیت: کوکو ٹیک پاکستان میں “Buy Now, Pay Later” سروس متعارف کروائے گا، جس کے لیے ابتدائی طور پر 3 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔

وزیراعظم نے کہا کہ یہ معاہدے پاکستان اور چین کے درمیان سرمایہ کاری، جدت، روزگار اور تکنیکی تعاون کے نئے دروازے کھولیں گے اور پاکستان کو ڈیجیٹل معیشت کا علاقائی مرکز بنائیں گے۔