اسلام آباد، 02 جون ( اے پی پی(: پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کے صدر سید محسن گیلانی کا کہنا ہے کہ پی ایف ایف آئین میں فٹبال کے تمام متعلقہ حلقوں کی نمائندگی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، انہوں نے ملک بھر میں قومی، صوبائی اور ضلعی سطح پر فٹبال گورننس کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے ایک جامع اصلاحاتی پروگرام کا بھی اعلان کیا۔
اسلام آباد میں فیفا اور ایشین فٹبال کنفیڈریشن (اے ایف سی) کے زیر اہتمام دو روزہ گورننس ورکشاپ کے اختتام پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے گیلانی نے کہا کہ آئینی اصلاحات کا عمل پاکستان میں فٹبال کے لیے ایک زیادہ جامع، شفاف اور نمائندہ نظام قائم کرنے کا اہم موقع فراہم کرتا ہے۔
سید محسن گیلانی نے کہا کہ مجھے ایسی آئینی اصلاحات میں کوئی دلچسپی نہیں جو پی ایف ایف صدر کے اختیارات میں اضافہ کریں۔ میں نئے پی ایف ایف آئین میں فٹبال کے تمام اسٹیک ہولڈرز کی زیادہ نمائندگی کے لیے لڑوں گا۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل کے گورننس ڈھانچے میں خواتین فٹبال، فٹسل، بیچ سوکر، ای فٹبال، صوبائی فٹبال ایسوسی ایشنز، کلبز اور فٹبال کی ترقی میں کردار ادا کرنے والے دیگر تمام شعبوں کو مؤثر نمائندگی ملنی چاہیے۔
یہ ورکشاپ فیفا کے ہیڈ آف ممبر ایسوسی ایشنز گورننس رولف ٹینر اور اے ایف سی کے سینئر منیجر (ساؤتھ ایشیا یونٹ، ممبر ایسوسی ایشنز اینڈ ریجنل ایسوسی ایشنز ڈویژن) سونم جِگمی کی قیادت میں منعقد ہوئی، جس میں فیفا اور اے ایف سی کے گورننس معیارات کے مطابق نئے آئینی فریم ورک پر تفصیلی غور کیا گیا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رولف ٹینر نے ورکشاپ کے دوران ہونے والی مثبت اور تعمیری گفتگو کو سراہتے ہوئے کہا کہ مختلف اسٹیک ہولڈرز نے بھرپور انداز میں سوالات اٹھائے اور مجوزہ اصلاحات کے مختلف پہلوؤں پر وضاحت حاصل کی۔
انہوں نے کہا کہ اس عمل سے شرکاء کے خدشات دور کرنے، آئینی اصلاحات کے مقاصد کو بہتر طور پر سمجھنے اور اصلاحاتی عمل پر اعتماد سازی میں مدد ملی۔سید محسن گیلانی نےمزید کہا کہ پی ایف ایف، فیفا اور اے ایف سی کے تعاون سے صوبائی فٹبال ایسوسی ایشنز کی استعداد کار بڑھانے کے لیے پیشہ ور جنرل سیکریٹریز کی تقرری میں معاونت فراہم کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد صوبائی سطح پر فٹبال انتظامیہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا اور فٹبال ترقیاتی پروگراموں کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانا ہے۔











