اسلام آباد، 13 جون(اے پی پی ): وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 2026-27 عوامی فلاح، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
ہفتہ کے روز پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے محدود مالی گنجائش کے باوجود تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ نئے بجٹ میں مختلف آمدنی رکھنے والے طبقات کے لیے انکم ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے، جس سے لاکھوں ملازمین کو براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے کاروباری برادری اور برآمد کنندگان کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے کم از کم ٹیکس، ایڈوانس ٹیکس اور سپر ٹیکس میں بھی اہم رعایتیں دی ہیں تاکہ صنعت، سرمایہ کاری اور برآمدات کو مزید فروغ مل سکے۔
انہوں نے بتایا کہ بجٹ کی تیاری سے قبل ملک بھر کے چیمبرز آف کامرس، صنعت کاروں اور کاروباری تنظیموں سے وسیع مشاورت کی گئی اور ان کی متعدد تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنایا گیا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ خواتین، کم آمدنی والے طبقات، شپنگ انڈسٹری، ہاؤسنگ سیکٹر اور برآمدی شعبے کے لیے خصوصی اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کی مالی معاونت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے تاکہ کمزور طبقے کو بہتر سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران فیڈرل بورڈ آف ریونیو میں اصلاحات اور معاشی استحکام کے لیے کی گئی کوششوں کے باعث حکومت کو عوام کے لیے مزید ریلیف دینے کی گنجائش حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ بجٹ معاشی استحکام سے ترقی کی جانب سفر کا آغاز ثابت ہوگا، جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا، برآمدات کو فروغ ملے گا اور عوام کی قوتِ خرید بہتر ہوگی۔











