قومی اسمبلی: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی بجٹ 2026-27 پر مفصل بحث

3

اسلام آباد جون 14: وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے ملک کو ڈیفالٹ سے بچا کر معاشی استحکام کی راہ پر ڈالا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ 50 ہزار روپے تک تنخواہ لینے والوں پر کوئی ٹیکس نہیں۔ 50 ہزار سے ایک لاکھ روپے تک تنخواہ پر صرف 1 فیصد ٹیکس عائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ 6 لاکھ سے اوپر کی تنخواہ کے حوالے سے پروفیشنلز اور تنخواہ دار لوگوں کی جو ڈیمانڈ تھی اسے پورا کیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ایسا دور بھی آیا تھا جب سیاسی لیڈر ونگ کی جماعت کے بیانات آن ریکارڈ موجود ہیں کہ پاکستان ڈیفالٹ ہونے جا رہا ہے۔ کہا جاتا تھا کہ یہ ایک مہینے کی بات ہے، دو مہینے کی بات ہے۔ ملک کے ڈیفالٹ ہونے پر شرطیں لگ رہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت ایکسچینج ریٹ اس طرح فلیکچوایٹ ہوتا تھا جیسے پنکھا چلتا ہے۔ صبح ڈالر کا ریٹ کچھ اور، دوپہر کو کچھ اور، شام کو کچھ اور۔ کاروباری طبقے کی دکانیں نہیں کھلتی تھیں۔ ایکسپورٹرز کا مال پورٹ پر پڑا تھا مگر ایکسپورٹ نہیں ہو سکتا تھا۔ مہنگائی 38 فیصد سے اوپر تھی، انٹرسٹ ریٹ 22 فیصد سے اوپر تھا۔

کوئی ہاتھ لگانے کو تیار نہیں تھا*، مسلم لیگ ن کے وزیراعظم شہباز شریف صاحب نے ہمت باندھی۔ بہت سارے لوگ تو چھٹی لے کر چلے گئے تھے۔ ایسے وقت میں شہباز شریف نے نہ صرف حکومت سنبھالی بلکہ ریاست کے لیے اپنی سیاست قربان کی۔

انہوں نے یاد دلایا کہ شہباز شریف صاحب نے اسی ہاؤس میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ میں اپوزیشن میں ہوں، میری پوری جماعت جیلوں کے اندر ہے، مگر میں پاکستان کی خاطر کہتا ہوں کہ آپ معیشت کو بچائیں، عوام کو بچائیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس وقت اس کشتی میں بیٹھنے سے انکار کیا گیا۔ ان لوگوں نے آئی ایم ایف کو لیٹر لکھے کہ پاکستان کو پروگرام نہ دیا جائے۔ آپ چاہتے تھے کہ یہ ملک ڈیفالٹ کرے۔

انہوں نے دوٹوک کہا کہ ہم تو اچھے کام کی تعریف کریں گے، لیکن ہمیں یہ گوارا نہیں کہ ہم اپنی سیاست کی خاطر پاکستان کے خلاف سازش کریں، جس طرح انہوں نے اپنے دور میں آئی ایم ایف کو خط لکھے تھے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ آج ایکسچینج ریٹ مستحکم، مہنگائی سنگل ڈیجٹ اور انٹرسٹ ریٹ کم ہے۔ *اگر وہ میٹنگ نہ ہوتی، وہ اقدامات نہ کیے جاتے تو آج یہ خوشحالی ممکن نہ ہو پاتی۔